انسداد دہشت گردی اتھارٹی ’غیر فعال‘

فائل فوٹو، ڈیرہ اسماعیل خان دھماکہ
Image caption اتھارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے پالیسی بنانا ہے

ملک میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لیے حکومت کی طرف سے قائم کی جانے والی قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ابھی تک غیر فعال ہے۔

وزیر اطلاعات قمر زمان قائرہ کا کہنا ہے کہ حکومت قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اس اتھارٹی کے قیام کا مقصد دہشت گردی اور شدت پسندی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے پالیسی مرتب کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کاروں کا مطالعہ کرنا اور اُن کے سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تجاویز دینا ہے۔

حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے نہ تو اس میں مطلوبہ بھرتیوں کا عمل شروع کیا گیا اور نہ ہی اتھارٹی نے ابھی تک ایسی کوئی پالیسی دی جو شدت پسندی کے واقعات کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوسکے۔

وِزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اس اتھارٹی کے ذمہ داروں کی طرف سے سٹاف اور دیگر ضروری سامان کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو متعدد بار خط لکھے گئے تاہم یہ تمام فائلیں سُرخ فیتے کی نذر ہوگئیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس اتھارٹی کے قیام کو پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظوری کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہےجس کے مطابق وِزارت داخلہ میں ایک الگ ڈویژن بنایا جائے گا جس میں یہ اتھارٹی کام کرے گی تاہم یہ اتھارٹی وزیر اعظم کے ماتحت کام کرے گی۔

اس اتھارٹی کے لیے کی جانے والی قانون سازی میں چاروں صوبوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس اتھارٹی کے قیام کے بعد سے لیکر اب تک اس کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ اس اتھارٹی کے قیام کے بعد ملک بھر میں شدت پسندی کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ان میں کراچی میں عاشورہ کے جلوس، چہلم کے جلوس، پشاور میں خودکش حملے لاہور میں مناواں میں پولیس کے تربیتی کیمپ اور داتا دربار پر ہونے والے حملے نمایاں ہیں۔

قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں شدت پسندی کو روکنے کے لیے دیگر ملکوں نے جو پالیسیاں مرتب کی ہیں اُن کا جائزہ لیں بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ اس اتھارٹی کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں اُن میں بعض تنظیموں کی طرف سے نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے پالیسی بنانا بھی شامل ہے۔

سنہ دوہزار آٹھ کے وسط میں موجودہ حکومت نے ملک میں شدت پسندی کے واقعات کو روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے ادارے کا قیام عمل میں لائی تھی تاہم گُزشتہ برس اس ادارے کو اتھارٹی کا درجہ دیا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز کو ریٹائرمنٹ کے بعد اس ادارے کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی واحد سویلین ادارہ ہے جس کو شدت پسندی کے خلاف حکمت علی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

Image caption اس اتھارٹی کے قیام کے بعد سے لیکر اب تک اس کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ اس اتھارٹی کے قیام کے بعد ملک بھر میں شدت پسندی کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں

شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف ملکوں، یورپی یونین اور امریکہ نے انسداد دہشت گردی اتھارٹی کو موثر بنانے کے لیے فنڈز دینے کے وعدے کیے ہیں۔ وِزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مذکورہ اتھارٹی کو بیرون ملکوں سے ابھی تک کوئی امداد نہیں ملی۔

اس اتھارٹی کے قیام کے وقت حکومت کی طرف سے صرف تین لاکھ روپے کے فنڈز رکھے گئے تھے جس کے بعد گُزشتہ مالی سال کے دوران اس ادارے کے لیے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے تاہم اس ادارے میں مطلوبہ بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے مختص کی گئی رقم کا بڑا حصہ سرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دیا گیا۔

اس اتھارٹی کے کوآرڈینیٹر طارق پرویز جنہوں نے منگل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس میں انہوں نے ذاتی وجوہات کا زکر کیا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ طارق پرویز کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ اختلافات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسی بارے میں