اورکزئی: تینتیس شدت پسند ہلاک

فائل فوٹو، پاکستان فوج
Image caption اورکزئی ایجنسی میں حکام کے مطابق کارروائیوں میں سینکڑوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران تینتیس شدت پسند اور سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو بالائی اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کو کارروائی کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ڈبوری میں غلجو اور سمبھاگٹ کے قریب اہم چوٹیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

بالائی اورکزئی ایجنسی کے طویل اور مشکل پہاڑی علاقوں میں اب تک سکیورٹی فورسز کے اہلکار فضائی حملے کرتے رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ بدھ کو بعض مقامات پر زمینی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ ان جھڑپوں میں تینتیس شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

زیریں اورکزئی ایجنسی میں فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے نے اپریل کے مہینے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہاں بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں اور اسی مہینے میں بالائی اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔

ان کارروائیوں میں اب تک حکام کے مطابق سینکڑوں شدت پسند ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں