آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 جولائ 2010 ,‭ 12:21 GMT 17:21 PST

پاکستان: امریکی ڈرون حملے تین گنا زیادہ

ڈرون حملے کب، کہاں اور کتنے ہوئے اور ان میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے؟ گزشتہ ڈیڑھ برس میں شدت پسند حملوں اور ان میں ہلاکتوں کی تعداد۔ نقشوں کی مدد سے آپ ان حملوں کا ماہانہ جائزہ دیکھ سکتے ہیں۔ سلائڈ شو پر’کرسر‘ کے ذریعے آپ آگے یا پیچھے جاسکتےہیں۔

حملوں کا حساب

ڈرون حملے: کب، کہاں اور کتنے

پاکستان پر اثرات


باراک اوباما کے امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی تعداد تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کی ایک تحقیق کے مطابق جنوری دو ہزار نو سے اس سال جون تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ستاسی ڈرون حملے ہوئے۔ اس سے پہلے اٹھارہ ماہ میں محض پچیس ڈرون حملے ہوئے تھے۔

اوباما انتظامیہ کے تحت ہونے والے ان حملوں میں سات سو سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں جن کے بارے میں حتمی طور پر یہ کہنا ناممکن ہے کہ ان میں شدت پسند یا جنگجؤ کتنے تھے اور عام شہری کتنے۔ اوبامہ انتظامیہ سے پہلے ہونے والے حملوں میں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

زیادہ تر حملوں کا مرکز شمالی وزیرستان رہا اور ستاسی میں سے چھپن حملے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے۔ اس کے بعد ڈرونز کا بڑا ہدف جنوبی وزیرستان تھا جہاں اس دوران چھبیس حملے ہوئے۔

ایک سینئیر امریکی اہلکار کے مطابق ڈرون حملوں میں اب تک چھ سو پچاس شدت پسند اور محض بیس عام شہری ہلاک ہوئے ہیں تاہم پاکستانی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اس امریکی اہلکار کے مطابق یہ محض ایک مفروضہ ہے۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈرونز جنگوں کی تاریخ میں ہدف کو عین نشانہ بنانے والے ہتھیاروں میں سب سے زیادہ مؤثر ہتھیار ہیں۔

ڈرونز جنگوں کی تاریخ میں ہدف کو عین نشانہ بنانے والے ہتھیاروں میں سب سے زیادہ مؤثر ہتھیار ہیں۔

سینئیر امریکی اہلکار

بغیر پائلٹ کے یہ جہاز یا ڈرون امریکی انٹیلیجنس ادارہ سی آئی اے کنٹرول کرتا ہے اور حملوں کی ضرورت، وقت اور جگہ کا تعین بھی سی آئی اے کی ہی ذمہ داری ہے۔ تاہم بی بی سی کی کوشش کے باوجود بھی سی آئی اے نے ڈرونز کے ذریعے لڑی جانے والی اس جنگ کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

امریکی اہلکار اکثر یہ اشارہ دے چکے ہیں قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے پاکستان کے ساتھ ایک خاموش معاہدے کے نتیجے میں ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کے مطابق امریکہ اور پاکستان میں اس معاملے میں واضح اختلاف ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

عبدالباسط کے مطابق ڈرون حملے نہ صرف پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں بلکہ یہ قبائلی علاقوں میں دل و دماغ کی جنگ جیتنے میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کا حل ڈائیلاگ اور افہام و تفہیم سے چاہتے ہیں کیونکہ اس جنگ میں پاکستان اور امریکہ کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے دہشتگردی کا خاتمہ۔ انہوں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ ان حملوں سے پاکستان میں بے چینی پھیل رہی ہے وہ انہیں اپنے قریبی حلیف اور دوست ملک امریکہ کے ساتھ کسی جھگڑے کی بنیاد نہیں بنانا چاہتے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور اس وجہ سے جائز نہیں ہیں، لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بارے میں تمام پالیسی فیصلے کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں جس بڑھتی ہوئی بے چینی کا ذکر عبدالباسط کر رہے ہیں اس کا ایک پیمانہ ملک بھر میں خودکش اور بم حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ اردو سروس کی تحقیق کے مطابق شدت پسندوں نے پچھلے اٹھارہ ماہ میں پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک سو چالیس سے زیادہ حملے کیے ہیں جن میں سترہ سو سے زائد شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران پشاور شدت پسندوں کا بڑا ہدف رہا ہے جہاں چھتیس حملوں میں ساڑھے تین سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں دوسرا بڑا شہر لاہور ہے جہاں بارہ حملوں میں اڑھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پچھلے اٹھارہ ماہ میں شدت پسندوں نے داراحکومت اسلام آباد سمیت تیس شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔

ان ڈرون حملوں سے کچھ وقتی نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن بطور ایک تحریک کے وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ محمد عمر کے مطابق ڈرون حملوں سے متنفر قبائلی بڑی تعداد میں ان کی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔

طالبان ترجمان محمد عمر

انتہا پسندوں کی جانب سے حملوں کی تعداد اور شدت میں پچھلے نو ماہ میں خاص طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان میں سے کئی حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد عمر نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ گو انہیں ان ڈرون حملوں سے کچھ وقتی نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن بطور ایک تحریک کے وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ محمد عمر کے مطابق ڈرون حملوں سے متنفر قبائلی بڑی تعداد میں ان کی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔

لیکن ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق اگر محمد عمر کی بات مان بھی لی جائے تو بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ قبائلی علاقوں میں ان حملوں کے خلاف صرف نفرت ہی پائی جاتی ہے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے متعدد قبائلیوں نے ہمارے نامہ نگاروں سے کہا کہ گو وہ ڈرون حملوں کے خلاف ہیں لیکن یہ پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے فوجی آپریشنز سے بہرحال بہتر ہوتے ہیں کیونکہ یہ صرف طے شدہ ہدف ہی تباہ کرتے ہیں جبکہ عام آبادی ان سے محفوظ رہتی ہے۔

دلیل میں وہ محسود علاقے کے شہر جنڈولہ کے بازار کی مثال دیتے ہیں جہاں ان کے مطابق محسود قبائل کے خلاف کیے جانے والے فوجی آپریشن میں چار سے پانچ سو دکانوں پر مشتمل جنڈولہ بازار مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

اسلام آباد میں آریانہ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ خادم حسین کی تحقیق بھی اس نقطہء نظر کی حمایت کرتی ہے۔ خادم حسین کے مطابق پچہتر فیصد قبائلی ڈرون حملوں کے حق میں ہیں۔

گو کہ ڈرونز کے ذریعے لڑی جانے والی اس جنگ کے انجام کا اندازہ لگانا فی الحال ناممکن ہے لیکن دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کی جنگ کی شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ ان اداروں کے مطابق ڈرون حملے دنیا بھر میں مانے جانے والے جنگی قوانین تباہ کر رہے ہیں اور اگر یہ جاری رہے تو عالمی امن کو انتشار کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔

تاہم پاکستانی مبصرین کے مطابق مستقبل قریب میں ان حملوں کے رکنے کا امکان بہت کم ہے۔ طالبان کی سیاست کا بڑا محور افغانستان ہے اور جبتک وہاں مفاہمت اور امن کی جانب کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوتی، ان حملوں کا رکنا مشکل نظر آتا ہے۔


حملوں کی حمایت

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کرائے گئے ایک سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں (ڈرون) کے ذریعے میزائل داغے جاتے ہیں وہاں رہنے والے عام افراد کی ایک بڑی تعداد ان حملوں کی حمایت کرتی ہے۔

ڈرون طیارہ

ایک غیر سرکاری تنظیم آریانہ انسٹیٹوٹ آف ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی نے یہ سروے نومبر دو ہزار آٹھ سے لے کر جنوری دو ہزار نو کے دوران کیا۔ اس سروے میں پہلا سوال یہ تھا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر ہوتے ہیں؟‘ اسّی فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ حملے اپنے ہدف پر ہی ہوتے ہیں جبکہ بیس فیصد لوگوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور عام آبادی کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ دوسرا اہم سوال اِس سروے میں یہ تھا کہ ’کیا آپ یہ چاہیں گے کہ جو لوگ دوسرے ممالک سے یہاں آئے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، اُن کے لیے کوئی ایسا طریقۂ کار اختیار کیا جائے کہ اُن کے مراکز تباہ ہو جاہیں؟‘ جواب میں ستر فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ایسا چاہتے ہیں جبکہ تیس فیصد لوگوں کا کہنا تھا وہ ایسا نہیں چاہتے۔

ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ کیا آپ یہ چاہیں گے کہ غیر ملکیوں اور اُن مقامی افراد کے خلاف پاکستانی فوج ٹارگٹڈ آپریشن کرے جو پاکستان کی ریاست سے لڑ رہے ہیں اور سماج کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اِس سوال کے جواب میں پچاسی فیصد لوگوں نے ’ہاں‘ کہاں اور پندرہ فیصد نے ’نہیں‘۔

اس سروے کا عمومی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، اُن کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ بنیں۔

خادم حسین

آریانہ انسٹیٹوٹ آف ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اس ’سروے کا عمومی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، اُن کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں۔ وہ ضرور یہ چاہتے تھے کہ اگر ایسا پاکستانی فوج کرے تو وہ زیادہ خوش ہوں گے۔ لیکن وہ ڈرون حملوں کے بارے میں کوئی ایسا احساس نہیں رکھتے جسے نفرت یا ناپسندیدگی سے تعبیر کیا جا سکے۔‘ (سنئیے ڈاکٹر خادم حیسن کا مکمل انٹرویو سنیں)

جن علاقوں میں یہ سروے کیا گیا ان میں جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی شامل تھے۔ اس سروے میں جو طریقۂ کار اختیار کیا گیا اس میں مختلف تحقیق کاروں کے گروپ بنائے گئے۔ تحقیق کاروں کا تعلق انہیں علاقوں سے تھا۔ ان تحقیق کاروں کو سوال نامے دیے گئے تھے۔ یہ لوگ ان علاقوں میں گئے اور ان سوالوں کو دیکھ کر ایک ’ایکسپلوریٹری میتھڈ‘ اختیار کیا جو یہ تھا کہ سروے کے سوالوں کی بنیاد پر معروضی انداز سے فیلڈ ورک کیا جائے۔

اس فیلڈ ورک کے لیے جو سامپلنگ کی گئی اس میں چھوٹے تاجروں، طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں، ہسپتالوں میں کام کرنے والوں، استاتذہ اور ٹرانسپورٹرز کو شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر خادم حسین کے مطابق اس میتھڈالوجی کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ سروے کے نتائج کی شرح فیصد نکالی گئی جس کے ذریعے غلطیوں کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا جو صفر عشاریہ پانچ فیصد نکلا۔ جس سے یہ نتیجہ اخز کیا گیا کہ یہ سروے سائنسی اصولوں کے معیار پر پورا اترتا تھا۔

میڈیا کا محدود دائرہ

ناروے کی اوسلو یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کار فرحت تاج جن کا تعلق بھی پاکستان کے صوبۂ پختونخوا سے ہے، کہتی ہیں کہ میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور کئی صحافیوں کو ان علاقوں میں صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے کسی حد تک آزادانہ صحافت کرنے کی کوشش کی۔

فرحت تاج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں عوامی مقامات پر خودکش حملے، ان میں عام شہریوں کی ہلاکت اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پاکستان کے میڈیا کے اندر طالبان کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ لیکن ڈرون حملوں کے بارے میں میڈیا کی سوچ میں ابھی تک تبدیلی نہیں آئی اور وہ پاکستان کے لوگوں کو ’اب بھی گمراہ کر رہا ہے‘۔

گزشتہ برس پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا جس میں تقریباً ایک ہزار لوگوں نے شرکت کی، اس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمئن ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔

تحقیق کار فرحت تاج

فرحت تاج کے مطابق اگر ان لوگوں سے بات کی جائے جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ یہ بتائیں گے کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر لگتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کھل کر نہیں بتاتے۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ یہ بات صرف وہی نہیں کہہ رہیں۔ ’گزشتہ برس پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا تھا جس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور ادیبوں سمیت ایک ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی اس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمین ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔‘ (سنئیے فرحت تاج کا مکمل انٹرویو سنیں)

فرحت تاج کے مطابق بین الاقوامی میڈیا بھی تصویر کا صحیح رخ نہیں پیش کر رہا ہے کیونکہ اس کو بھی قبائلی علاقوں تک رسائی نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں پر ہی انحصار کرتا ہے اور اس کے علاوہ بھی جن ذرائع کی مدد لیتا ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہی صورت حال مغربی تھنک ٹینکس (فکری اداروں) کی بھی ہے جو پاکستانی صحافیوں کی نیوز رپورٹوں کی مدد سے اپنی رپورٹیں بناتے ہیں، نتائج اخز کرتے ہیں اور مغرب میں بھی لوگوں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ نتیجاً قبائلی علاقوں کے بارے میں ایک مجموعی رائے یہی بنی ہے کہ وہاں لوگ طالبان اور القاعدہ کی محبت میں گرفتار ہیں اور ڈرون حملوں میں عام لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں طالبان کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، جو کہ ایک بلکل غلط تاثر ہے۔

لوگوں کی رائے

قبائلی علاقوں سے نکل مکانی والے افراد

پاکستان کے سات قبائلی ایجنسیوں میں سب سے زیادہ ڈرون حملے وزیرستان میں ہوتے ہیں۔ ان حملوں کے بارے میں وزیرستان کے دونوں قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔

وزیرستان کے لوگوں کی رائے کے مطابق ان حملوں کو وہاں کے رہائشی اپنے لیے خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ اور یہ حملے اپنے ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ وزیرستان کے ملحقہ اضلاع میں پہچنے والے وزیرستان کے رہائشیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حامی۔

اگر امریکی ڈرون حملوں اور پاکستانی فوج کے آپریشن میں سے کسی ایک کا مجبوراً انتحاب کرنا پڑے (تو میں) ڈرون حملوں کا انتخاب کروں گا

وانا کے رہائشی سعید رحمان وزیر

تاہم بعض لوگ ان حملوں کے مخالف بھی ہیں لیکن مخالفین کی بھی دو طرح کی آراء ہیں۔ ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان حملوں میں عام شہری ہلاک ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو کہتے ہیں یہ حملے زیادہ تر اپنے ہدف یعنی شدت پسندوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے رہائشی ضیاءالدین کہتے ہیں کہ حملے صحیح کام کر رہے ہیں اور جو عام لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ طالبان کے ساتھ رہتے تھے لیکن باقی عام شہری ان حملوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ ’یہ حملے دہشت گردوں کو ہی ٹارگٹ کرتے ہیں۔‘

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے رہائشی شیر احمد وزیر کا کہنا ہے کہ وہ ان ڈرون حملوں کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ ان حملوں میں عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔’ایک برس پہلے خوش عالی میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا، اس میں میرے دوست سمیت کئی بےگناہ افراد مر گئے تھے۔‘

ایک برس پہلے خوش عالی میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا، اس میں میرے دوست سمیت کئی بےگناہ افراد مر گئے تھے۔

میر علی کے رہائشی شیر احمد وزیر

جنوبی وزیرستان کے ایک اور رہائشی حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ وہ ڈرون حملوں کی اس وجہ سے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کے نتیجے میں شدت پسندی میں مذید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مرتبہ اس وجہ سے بھی عام لوگ ہلاک ہوتے ہیں کیونکہ طالبان ان کے گھروں میں چھپ جاتے ہیں اور پھر وہاں ڈرون حملے کی صورت میں عام لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔

وانا کے رہائشی سعید رحمان وزیر کا کہنا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کی مشروط حمایت کرتے ہیں کیونکہ اگر انہیں امریکی ڈرون حملوں اور پاکستانی فوج کے آپریشن میں سے کسی ایک کا مجبوراً انتحاب کرنا پڑے تو وہ ڈرون حملوں کا انتخاب کریں گے۔ سعید رحمان وزیر کا کہنا تھا کہ طالبان کو روس کے خلاف لڑائی میں پاکستان اور امریکہ نے تیار کیا اور روس کی شکست کے بعد ان کا صفایہ نہیں کیا گیا۔ ’مصیبت یہ ہے کہ طالبان کو اب بھی امریکہ اور پاکستان اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ان کا مکمل صفایا نہیں کیا جا رہا۔ ان پر جب حملے ہوتے ہیں تو عام لوگوں کا بھی نقصان ہوتا ہے لیکن یہ نقصان پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں ہونے والے نقصان سے بہت کم ہے۔‘

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شخص بہر وزیر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پاکستانی فوج کے آپریشن سے بہت بہتر ہیں کیونکہ پاکستانی فوج جب علاقے میں آتی ہے تو وہ عورتوں، مردوں کو نہیں دیکھتی، سب کو اپنے بوٹوں تلے رکھتی ہے۔ محمد قذافی محسود کہتے ہیں کہ وہ ڈرون حملوں کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ پاکستان کو اپنے دہشت گردوں سے خود ہی نمٹنا چاہئیے۔

ڈرون آپریٹر کی کہانی

افغان صوبے ہلمند میں ڈرون طیارہ آپریٹ کرنے والے ’مائیک سی‘ اپنے کام کی نوعیت اور تجربات کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

مائیک سی

’’ہم ملک کے خطرناک ترین علاقے میں طالبان کے ایک مضبوط گڑھ میں موجود ہیں۔

میں یہاں سے اس ساری صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں بغیر پائلٹ کے طیارے یا ڈرون کو آپریٹ کرتا ہوں۔

میں براہِ راست اس خطے میں موجود اتحادی افواج کے ساتھ کام کرتا ہوں اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہوں۔ میں جو ڈرون اڑاتا ہوں وہ ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوتے اور ان کا کام صرف نگرانی کرنا ہوتا ہے۔

میں جو ڈرون اڑاتا ہوں وہ ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن کے ذریعے اڑایا اور اتارا جاتا ہے اور یہ سٹیشن اس فوجی کمانڈ سے منسلک ہوتا ہے جس کے ساتھ میں کام کر رہا ہوتا ہوں۔

اس کام میں مشکل یہ ہے کہ اپنے کاموں میں مشغول عام افراد کے گروہ اور مسلح افراد کے گروہ میں تمیز کرنا آسان نہیں۔

مائیک سی، ڈرون پائلٹ

ہم لڑائی میں مصروف یا پھر شدت پسندوں کی بالواسطہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے فوجیوں کی مدد کرتے ہیں۔ میں کسی بھی مشتبہ چیز پر نظر رکھتا ہوں۔ کبھی تو آپ گھنٹوں دیکھتے رہیں آپ کو کچھ نہیں ملتا اور کبھی آپ عین اس جگہ کے اوپر ہوتے ہیں جہاں جنگ جاری ہو۔

ہم مشتبہ حرکات اور افراد کو تلاش کرتے ہیں جیسے کہ سڑک کے کناروں کو کھودتے افراد، موٹرسائیکلوں پر سوار مشتبہ لوگ۔ ہر روز زندگی کی چہل پہل میں برے کام کرنے والے ان افراد کو کھوجنا ہی ہمارا کام ہے۔

بنیادی طور پر ڈرون کا آپریٹر ایک مشن کمانڈر کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کی نشاندہی کر لیتے ہیں تو ہم ان کا پیچھا کرتے ہیں، معلومات مشن کمانڈر تک پہنچا دیتے ہیں اور نگرانی جاری رکھتےہیں۔

یہ فوج کا کام ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لے اور یہ طے کرے کہ آگے کیا کرنا ہے۔

ہم لڑائی میں مصروف یا پھر شدت پسندوں کی بالواسطہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے فوجیوں کی مدد کرتے ہیں۔ میں کسی بھی مشتبہ چیز پر نظر رکھتا ہوں۔ کبھی تو آپ گھنٹوں دیکھتے رہیں آپ کو کچھ نہیں ملتا اور کبھی آپ عین اس جگہ کے اوپر ہوتے ہیں جہاں جنگ جاری ہو۔

مائیک سی، ڈرون پائلٹ

یہ بلی چوہے کا کھیل ہے۔ یہ فلموں کی طرح نہیں کہ آپ کچھ ہوتا دیکھیں اور کارروائی کر دیں۔ آپ کو انتظار کرنا ہوتا ہے، یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ آپ یہ معلومات آگے فراہم کر دیتے ہیں۔ آپ ایئر سپیس محفوظ کرا دیتے ہیں لیکن آپ فیصلے نہیں کرتے۔

اس کام میں مشکل یہ ہے کہ اپنے کاموں میں مشغول عام افراد کے گروہ اور مسلح افراد کے گروہ میں تمیز کرنا آسان نہیں۔ مزاحمتی تحریک میں آپ کا سامنا عام شہریوں کے بھیس میں شدت پسندوں سے ہو سکتا ہے۔

یہ بتانا مشکل ہے کہ طالبان کون ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاشرے کی ساخت کی وجہ سے اس میں سخت گیر نظریات کے حامل افراد ہیں لیکن ایک دن آپ کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہوتی ہیں تو اگلے دن کسی اور کے ساتھ۔

یہ ان کی چالاکی ہے کہ وہ عوام میں گھل مل جاتے ہیں۔ طالبان لوگوں کو ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب تک وہ ہمارے فوجیوں پر فائرنگ نہیں کرتے ان کے عزائم کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

لڑائی کے اصولوں کے مطابق صرف یہی وہ وقت ہوتا ہے جب یہ صاف ہوجاتا ہے کہ آپ کا دشمن کون ہے۔

حتٰی کہ اگر کسی دشمن کی نشاندہی ہو بھی جائے، اگر وہ ہتھیار ڈال دے یا شہری ہلاکتوں کا امکان ہو تو اس صورت میں فوجی زیادہ سے زیادہ گھروں کی تلاشی کی اجازت طلب کر سکتے ہیں۔ جب دشمن ہتھیار ڈال دے تو اس سے لڑائی کا جواز باقی نہیں رہتا۔

ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں یہ بات لڑائی کے اصولوں میں طے کی گئی ہے۔ شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے فوجی اس وقت تک فائر نہیں کر سکتے جب تک ان پر گولی نہ چلائی جائے۔

تاہم ان (شدت پسندوں) کے لیے ہمیں نشانہ بنانا آسان ہے۔ وہ بھی شاید لڑائی کے ان اصولوں کو جانتے ہیں۔ درحقیقت میرے خیال میں وہ ان اصولوں کو مہارت سے اپنے بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اکثر کامیاب رہتے ہیں۔ یہ ہر وقت ہوتا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔