بلوچستان: بارش سے تباہی، ہلاکتیں

پاکستان میں بارش کی فائل فوٹو
Image caption بارش کے سبب جو افراد ہلاک ہوئے ہیں ان میں چھ خواتین اور دو بچے شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں مون سون کی بارش نے تباہی مچا دی ہے جس کی وجہ سے ستائیس افراد پانی میں بہہ گئے ہیں جن میں سے آٹھ افراد کی لاشیں نکال دی گئیں۔

بارش کے سبب پانچ سوسے زیادہ افراد ابھی تک پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کے لیے فوج کے ہیلی کاپٹر طلب کرلیے گئے ہیں۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ سے ساڑے تین سو کلو میٹر دور شمال کی طرف ضلع بارکھان میں کل رات سے مون سون کی طوفانی بارشوں کا آغاز ہوا جو آج صبح تک بغیر کسی وقفے کی جاری ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں میں چھ خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سینکڑوں مویشی بھی مر چکے ہیں۔

بارکھان سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سابق سردار عبدا لرحمن کھتران کا کہنا ہے کہ گذشتہ سو سال میں یہاں اتنی بارش نہیں ہوئی تھی جتنی کل رات ہوئی ہے ۔

بقول ان کے ندی نالوں میں سیلابی ریلوں کی وجہ کئی بند ٹوٹ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں بھی مشکلات کا سامناہے۔ تاہم بارکھان میں سیلاب کنٹرول سیل کے انچارج بابو غلام حسین نے بتایا کہ کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کوہلو سے ہے۔ یہ افرادایک سیلابی ندی کے درمیان خیموں میں کئی ماہ سے عارضی طور پر رہ رہے تھے اور رات کو پانی اچانک آنے کے باعث وہ پانی میں بہہ گئے ـ

غلام حسین کے مطابق بارش کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑز زمین پر فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ـ

دوسری جانب بلوچسان سے ضلع سبی کے تحصیل تلی میں پانچ سو سے زیادہ افراد اب تک پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کونکالنے کے لیے امدادی کام شروع کر دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر سبی شاہد سلیم قریشی نے بتایا ہے کہ تحصیل تلی کا سبی اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جب کہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے پاکستان آرمی کے چار ہیلی کاپٹروں کو طلب کر لیا گیا ـ

امکان ہے کہ حالات جلد معمول کے مطابق آجائیں گے۔ بقول ان کے کہ ابھی تک کسی علاقے سے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی بارے میں