آپریشن اور ڈرون حملے:’جہاد کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے‘

طالبان فائل فوٹو
Image caption بعض تجزیہ نگار نقصانات کو وقتی اور روپوشی کو جنگی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں

پاکستان میں ایک تاثر یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں اب تک کے امریکی ڈرون حملوں سے شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں پر تو یقیناً اثر پڑا ہے لیکن ردعمل میں ان کی جانب سے پاکستان کے کسی بھی علاقے میں حملوں کی صلاحیت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔

اس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ ڈرون حملوں سے شدت پسندوں کی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے لیے رابطوں اور سامان کی نقل و حمل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور طالبان رہنماؤں کو روپوش ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔

’شدت پسند پھر منظم ہو رہے ہیں‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود جیسے میڈیا میں آنے کے مداح شخص نے بھی کئی ماہ سے کسی صحافی سے براہ راست سے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ نہیں کیا ہے۔ لیکن طالبان اور بعض تجزیہ نگار نقصانات کو وقتی اور روپوشی کو جنگی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں ان نقصانات کو برادشت کرنے کی صلاحیت ہے۔

وزیرستان میں قائم طالبان میڈیا سینٹر ایک بیان میں وقتی نقصانات کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کافی مضبوط اور برقرار ہے لہٰذا ڈرون حملوں سے انہیں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے ردعمل میں انتقام کے آگ لیئے نوجوان ان کے پاس آ رہے ہیں جو ان کی طاقت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں کے امور کے ماہر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں سے امریکہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے گا۔ ’البتہ ڈرون حملوں سے یہ فرق پڑا ہے کہ طالبان پریشان ہیں۔ ان کے لیے ممکن نہیں کہ ایک جگہ پر اکٹھے رہ سکیں۔ ایک جگہ پر مستقل رہ سکیں۔ ان کی کارکردگی پر فرق پڑا ہے انہیں نقصان ہوا ہے۔ لیکن اتنا بڑا فرق نہیں پڑا کہ وہ امریکہ سے معافی مانگ لیں گے یا اپنی جنگ ختم کر دیں گے۔ ان حملوں کی وجہ سے وہ شاید زیادہ انتقامی کارروائیاں کریں گے۔ ان سے امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

پاکستان طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے علاوہ القاعدہ کے نقصانات کے بارے میں تجزیہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ صحافیوں کے لیے خود براہ راست معلومات تک رسائی میں مشکل بھی آڑے آتی ہے۔ لیکن القاعدہ کے اہم رہنماؤں کی ہلاکت کی تمام خبریں امریکہ سے آئی ہیں۔ بعض مرنے والوں کو درمیانے یا نچلی سطح کے رہنما قرار دیے جا رہے ہیں۔

Image caption حکیم اللہ محسود جیسے میڈیا میں آنے کے مداح شخص نے بھی کئی ماہ سے کسی صحافی سے رابطہ نہیں کیا ہے

رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں کا اصل ہدف القاعدہ تھا لیکن مارے جانے والوں میں اہم نام بہت کم ہیں۔ ’بیت اللہ کے سوا کوئی نامی گرامی کمانڈر ہلاک نہ ہونے کے برابر ہے۔ افغان طالبان میں بھی جلال الدین حقانی، ان کے بیٹے سراج الدین حقانی یا کوئی اہم القاعدہ رہنما نہیں مارا گیا۔‘

طالبان کے بظاہر پس منظر میں چلے جانے کی وجہ بھی بعض ماہرین ڈرون کو نہیں بلکہ فوجی کارروائیوں کو قرار دیتے ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار زاہد حسین کہتے ہیں کہ طالبان کی روپوشی کی وجہ سوات اور وزیرستان میں فوجی کارروائیاں ڈرون حملے نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ طالبان کی جوابی کارروائیوں میں کمی کی وجہ بھی یہ عسکری آپریشن ہیں ناکہ ڈرون حملے۔

طالبان اور القاعدہ ڈرون حملوں سے کسی بڑی مشکل سے انکار کرتے ہیں۔ مفتی خالد شاہ جہانگیری طالبان کے استاد اور حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نقصان تو کسی بھی لڑائی میں تمام فریقین کا ہوتا ہے۔

’بہرحال آخری فائدہ اسلام کا ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ایک ساتھی یا اہم رہنما کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا کام جاری رہتا ہے۔ ہمارے نقصان کے مقابلے میں ان کا زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ آپ اتحادی افواج کی ہلاکتیں دیکھیں، ان کی معیشت دیکھیں، ان میں خودکشیوں کا تناسب دیکھیں۔ افغانستان اور عراق سے واپس چلے جانے والے فوجی بھی صحتیاب نہیں ہیں۔‘

طالبان کا موقف ہے کہ روپوشی یا اکٹھے نہ مل بیٹھنے سے نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا ہے۔ مفتی خالد شاہ کے مطابق اسلامی تاریخ میں ایسے موقعوں پر اہم شخصیات کی روپوشی کی مثالیں ملتی ہیں۔ ’ہاں وقتی طور پر اثر پڑتا ہے۔ لیکن دوبارہ منظم ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جدید ڈیجٹل کیمروں کے ذریعے، احتیاطی تدابیر، سخت پہرے اور جاسوسوں پر کڑی نظر رکھ کر وہ ان ڈرونز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ جاسوسی کے الزام میں بڑی تعداد میں افراد کا قتل بھی جائز ہے۔ ’یہ تو قصاص ہے۔ ایک آدمی کی معلومات سے اگر کسی مسلمان کا قتل ہو چاہے وہ آپ کا باپ ہو، بھائی ہو یا کوئی اور تو پھر کا کا قتل واجب ہے۔‘

مفتی خالد شاہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور پاکستان نے ان مسلمانوں کو جو پہلے اچھے مسلمان نہیں تھے بہترین مسلمان بنا دیا ہے اور وہ بندوق لے کر اپنے دفاع کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ ’ان فوجی آپریشنوں اور ڈرون حملوں سے لوگوں میں جہاد کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔‘

اسی بارے میں