ہنزہ: اب بلاسٹنگ کی جائےگی

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت جاری کہ ہے کہ ہنزہ میں بننے والی جھیل کے نتیجے میں متاثر ہونے والے خانداوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کو اس سال اگست تک یقینی بنایا جائے۔

اس سے پہلے بدھ کی رات صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہنزہ جھیل کے متاثرین کی بحالی اور چین کے ساتھ شاہراہ قراقرم کے ذریعے رابط بحال کرنے کی خاطر بلاسٹنگ کے ذریعے جھیل میں پانی کی سطح تیس میڑ کم کیا جائے گا۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے اس اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ کہ اس کے لیے چین سے بھی مدد مانگی جائے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے پر سپل وے کو اور گہرا اور چوڑا کیا جائے گا تاکہ جھیل مکمل طور پر پانی کی نکاسی ہو۔

وزیرِ اعظم گیلانی نے وزرات خزانہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ جھیل سے پانی کے فوری اخراج کے لیے بنائے جانے والے سپل وے کو چوڑا اور گہرا کرنے کے لیے مزید آٹھ کروڑ روپے فوری طور پر جاری کرے۔

انھوں نے کہا کہ جھیل کے باعث ہنزہ نگر کی بالائی علاقوں میں پھنسی پچیس ہزار کی آبادی تک امدادی سامان پہنچایا جائے۔

اس جھیل میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ایک گاؤں مکمل طور پر زیر آب آچکا ہے جبکہ چار دیہات جزوی طور پر ڈوب چکے ہیں۔ اس سے چوبیس سو افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ اپنے عزیز اقارب اور علاقے کے لوگوں کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کو چین کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ قراقرم کا پچیس کلومیڑ کا حصہ بھی زیر آب آچکا ہے جس کے باعث گذشتہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابط منقطع ہے۔

جنوری کے اوائل میں بننے والی قدرتی جھیل سے پانی کے نکاسی کے لیے سپل وے بنایا گیا تھا اور ڈیڑھ ماہ سے اس سپل وے سے پانی کا بہاؤ جاری ہے مگر جھیل میں پانی کی سطح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت جھیل میں پانی کی سطح کی تین سو اٹھاسی فٹ ہے۔

اسی صورت حال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے جھیل میں پانی کی سطح کم کرنے کے لئے بلاسٹنگ کے ذریعے سپل وے کو گہرا اور چوڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں