لاپتہ: خفیہ اداروں کے حکام کی طلبی

لاپتہ افراد کے لواحقین فائل فوٹو
Image caption بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین تصاویر اٹھائے مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ملک بھر سے لاپتہ ہونے والے افراد کا سراغ لگانے کے لیے ضلعی سطح پر مختلف مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے متعلقہ حکام کو مرحلہ وار طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد راولپنڈی کے جڑواں شہر کے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام اور لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثا کوچھبیس جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں شہروں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے ہر مقدمے کا جائزہ لے گا اور لاپتہ افراد کا سراغ لگانے والا عدالتی کمیشن تیس جولائی تک ان مقدمات کی جانچ پڑتال کرے گا۔

اس کارروائی کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثا کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے متعلقہ حکام اور وزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ منصور عالم کی سربراہی میں قائم ہونے والے تین رکنی کمیشن کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ اگست کے آخر تک لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کو نمٹا کر اس کے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے۔

اس کمیشن کے دیگر ارکان میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ناصرہ جاوید اقبال اور بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج فضل الرحمن شامل ہیں۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویز کے مطابق کمیشن نے دونوں شہروں کے متعلقہ حکام کو نو افراد کے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی سے متعلق اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کمیشن کو آگاہ کرنے کے بارے میں کہا ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے دو کا تعلق راولپنڈی سے جب کہ سات افراد کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ دو افراد سنہ دوہزار دو میں لاپتہ ہوئے تھے جب کہ سات افراد موجودہ جمہوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد لاپتہ ہوئے ہیں۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔

Image caption کچھ لاپتہ افراد کی تصاویر

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان افراد کی بازیابی کے لیے خفیہ ایجنسیاں سپریم کورٹ سے تعاون نہیں کر رہی تھیں تو اس کمیشن کے ساتھ کیا کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ عدالتی کمیشن بھی لاپتہ افراد کا سراغ لگانے میں ناکام رہا تو لاپتہ افراد کے ورثا نیا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک بھر سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے تاہم انہوں نے کمیشن کو اس ضمن میں تین سو افراد کی فہرست پیش کی ہے جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو ساٹھ کے قریب ہے اور اس میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جُڑواں شہروں کے متعلقہ حکام کو جو لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست بھیجی گئی ہے اُن میں لال مسجد آپریشن میں لاپتہ ہونے والے افراد کا زکر نہیں ہے۔

لال مسجد کی انتظامیہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ جولائی سنہ دوہزار سات میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران تیس سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں