وزیرستان پہلے اور اب

وزیرستان طالبان
Image caption وزیرستان کے دونوں قبائلی علاقوں میں عربوں کے علاوہ پنجابی طالبان کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

دو ہزار سے پہلے وانا میں ایک واقعہ ہوا تھا جس میں ایک افغانی خاندان نے ایک مقامی وزیر قبائلی کو اس جُرم کے الزام میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا کہ اس کے ایک افغان لڑکی سے ناجائز تعلقات تھے۔

دوسرے دن لڑکے کے قبیلے کے لوگ اس افغان خاندان کے مکان پر حملہ آور ہوئے اور پورا مکان مسمار کر دیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس خبر کو بی بی سی نے رحیم اللہ یوسف زئی کی زبانی نشر کیا۔

بی بی سی کی یہ خبر کئی دنوں تک لوگوں کے لیے ایک دلچسپ موضوع بنی رہی اور لوگ حیرانگی کے ساتھ ایک دوسرے کو بتاتے تھے کہ بی بی سی نے وانا کا نام لیا ہے۔

جب افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو طالبان کی ایک بڑی تعداد وزیرستان منتقل ہوگئی اور کچھ عرصے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے پہلی مرتبہ مُشتبہ طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہی وانا سے کیا۔

اس طرح وانا بین القوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ دو ہزار چار میں جب شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آئی تو بی بی سی کی تقریباً روزانہ ہی لیڈ خبر وانا ہی سے متعلق ہونے لگی۔

اس دوران ضلع لکی مروت سے ایک سامع نے مجھے ٹیلی فون کر کے شکایت کی کہ آپ روزانہ وانا کا نام لیتے ہیں کبھی تو لکی مروت کا بھی ذکر کریں۔

میرے خیال میں اب پورے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں لوگوں کی شکایت دور ہوگئی ہوگی کہ بی بی سی نے ان کے علاقے کا نام نہیں لیا۔

اس ساری صورتحال کو اگر دیکھا جائے تو وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک طالبان کے خلاف آٹھ سال تک جاری رہنے والے فوجی آپریشن کے بعد اب بھی وزیرستان سب سے زیادہ مشکوک ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے قبائلی علاقوں کی نسبت وزیرستان میں مُشتبہ طالبان کے خفیہ اور مضبوط ٹھکانے موجود ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام وزیرستانی شدت پسند ہیں۔

پاکستان سے باہر وزیرستانیوں کے متعلق اتنی غلط فہمیاں نہیں جتنی پاکستان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کے اندر اب دوسرے شہروں میں وزیرستانیوں کو انتہائی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کے اکثر شہروں میں وزیرستانی شناختی کارڈ پر کسی ہوٹل میں کمرہ بُک کرنا اس صورت میں ممکن ہے کہ آپ اس شہر میں کسی کو جانتے ہوں۔

وزیرستان دو قبائلی ایجنسیوں جنوبی و شمالی وزیرستان پر مشتمل ہے۔ان دونوں قبائلی ایجنسیوں پر افغانستان کے حالات کا براہ راست اثر پڑا ہے کیونکہ ایک تو اس علاقے کے لوگ سرحد کے آر پار آباد ہیں اور دوسرے یہ کہ افغانستان میں روس کی مداخلت کے دوران مجاہدین کے سب زیادہ مراکز وزیرستان میں تھے۔

افغان جہاد میں وزیرستان کے مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا تھا اور امریکہ نے بھی اس دوران وزیرستان میں کئی ترقیاتی کام کیے جس میں وانا کڑی کوٹ روڈ بہت اھم ہے جو وانا کے تمام گاؤں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے۔

مگر ان تمام حالات کے باوجود وزیرستان میں تعلیمی سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ دوسرے قبائلی علاقوں کے نسبت وزیرستان میں تعلیمی ماحول بہتر ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگانا چائیے کہ قبائلی علاقوں میں آٹھ برسوں سے جاری شدت پسندی کے دوران وزیرستان میں کسی بھی سکول کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ تاھم دوسرے قبائلی علاقوں میں اب تک دو سو کے قریب سکولوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق وانا میں مُلا نذیر اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان تعلیم کے مخالف نہیں ہیں۔ یہ دونوں گروپ کسی بھی صورت میں شدت پسندوں کو سکولوں کو اُڑانے کی اجازت نہیں دیتے۔ مزید یہ کہ ان کا اپنے اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ کسی دوسرے گروپ کو یہ موقع نہیں دیتے کہ وہ سکولوں کو تباہ کرے۔

وزیرستان کے علاوہ دوسرے قبائلی علاقوں میں صرف بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان موجود ہیں۔اور وہاں کے مقامی طالبان کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر بتایا جاتا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف حالیہ آپریشن راہ نجات میں محسود علاقے سے سکیورٹی فورسز نے طالبان جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔ محسود قبائل کے علاقے سے صرف طالبان ہی نہیں بلکہ پوری آبادی نے نقل مکانی کی ہے۔ مگر مقامی لوگوں کے مطابق جنگجوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ اب بھی ایک منظم گروپ کی شکل میں موجود ہیں جبکہ مُلا نذیر اور حافظ گل بہادر کے ساتھ تو پہلے ہی حکومت کےامن معاہدے ہیں۔

وزیرستان کے دونوں قبائلی علاقوں میں غیر ملکی عربوں کے علاوہ پنجابی طالبان کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں خاص طور پر وزیرستان میں ان دنوں پنجابی طالبان کا ذکر چھوٹے بڑے سب کی زبان پر ہے۔ پنجابی طالبان غیر مُلکی شدت پسندوں کی طرح چھپ کر نہیں بلکہ مقامی طالبان کی طرح کُھلے عام پھرتے ہیں۔

Image caption قبائلی علاقوں میں آٹھ برسوں سے جاری شدت پسندی کے دوران وزیرستان میں کسی بھی سکول کو نشانہ نہیں بنایا گیا

پنجابی طالبان سب سے پہلے دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں آنا شروع ہوئے۔ اس وقت پنجابی طالبان پنجاب سے نہیں آرہے تھے بلکہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسرے قومیتوں کے طالبان کےساتھ وزیرستان آنا شروع ہوئے کیونکہ افغانستان میں شمالی اتحاد کے خلاف افغان طالبان کے ساتھ لڑائی میں پنجاب کے جنگجوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

دو ہزار سات میں جب جنوبی وزیرستان میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع ہوئی تو اس وقت پنجاب اور پاکستان کے دوسرے علاقوں سے جنگجؤں کے چھوٹے چھوٹے گروہ وزیرستان آ کر بسنا شروع ہوگئے اور بعد میں ان لوگوں کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں تک پہنچ گئی اور مقامی لوگوں نے ان کا نام پنجابی طالبان رکھ دیا۔

وزیرستان میں پنجابی طالبان کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ غیر ملکی ازبکوں کے سخت مخالف ہیں اور ہر موقع پر ازبکوں کو تنگ کرنے کے لیے وہ ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں جہاں ازبکوں کا ٹھکانا ہوتا تھا وہاں پنجابی طالبان ضرور اپنا ٹھکانا بنا لیتے تھے۔ دو ہزار سات میں جب وانا میں مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے ازبکوں کے خلاف کاروائی کر کے انہیں علاقے سے نکلنے پر مجبور کردیا تو اس وقت پنجابی طالبان نے ملا نذیر کے گروپ کا ساتھ دیا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق پنجابی طالبان کے مقامی طالبان کے ہر گروپ سے اچھے تعلقات رہتے ہیں اور وہ وزیرستان میں مقامی طالبان کے زیر نگرانی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق طالبان اور پنجابی طالبان میں ایک واضح فرق یہ بھی ہے کہ پنجابی طالبان پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنے میں بہت کم حصہ لیتے ہیں اور وہ زیادہ تر افغانستان میں موجود امریکیوں خلاف لڑنے کے لیے سرحد پار چلے جاتے ہیں۔ افغانستان میں اتحادی فوج کے خلاف لڑنے میں ان کی دلچسپی زیادہ ہے۔

مبصرین کے خیال میں پنجابی طالبان میں زیادہ تر جیش محمد یا لشکر جھنگوی کے لوگ شامل ہیں جو القاعدہ یا تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو گئے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ قبائلی علاقوں میں کتنی تعداد میں پنجابی طالبان موجود ہیں لیکن بعض مبصرین کے خیال میں صرف جنوبی و شمالی وزیرستان میں ان کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔