کس کا تقرر ہوا، کسے توسیع ملی

Image caption جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پہلے بھی فوج کے سربراہان کے عہدوں میں توسیع ہوتی رہی ہے

یوسف رضاگیلانی پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم ہیں جن کو انیس سو تہتر کے آئین کے تحت ملک کے آرمی چیف کا تقرر کرنے کا اختیار ملا لیکن انہوں نے اپنے اس اختیار کے تحت فوج کے نئے سربراہ کا تقرر کرنے کے بجائے موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے عہدے کی مدت میں تین سال کی توسیع کردی ہے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کون؟

یوسف رضا گیلانی سے پہلے ان کی اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف بطور وزیر اعظم آرمی چیف کے تقرر کا اختیار استعمال کرچکے ہیں۔

چودہ اگست انیس سو تہتر کو جب ملک میں نیا آئین نافذ کیا گیا تو اس آئین میں فوج کے سربراہ کے تقرر کا اختیار وزیراعظم کے پاس تھا لیکن آئین میں ہونے والی ترامیم کی وجہ سے یہ اختیار وزیر اعظم سے صدر کے پاس چلا گیا اور اسی وجہ سے کبھی صدر تو کبھی وزیر اعظم نے اس اختیار کو استعمال کیا۔

وزیر اعظم گیلانی کو آرمی چیف کے تقرر کا اختیار اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں لگ بھگ آٹھ برسوں کے بعد حاصل ہوا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس اختیار کو ایک نئی شکل میں استعمال کیا۔

پاکستان میں فوجی سربراہ کو ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع دینا کوئی نئی بات نہیں ہے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پہلے پانچ ایسے فوجی سربراہان ہیں جو اپنے عہدے کی معیاد سے زیادہ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔

فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کی ریت اس وقت پڑی جب ملک کے پہلے مسلمان اور تیسرے فوجی سربراہ جنرل ایوب خان کے عہدے کی معیاد میں دو سال کی توسیع کی گئی۔جنرل ایوب خان سولہ جنوری انیس سو اکاون کو چار سال کے لیے آرمی چیف مقرر ہوئے تھے ۔

ممتاز دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے بقول جنرل ایوب خان کو دو مرتبہ دو دو برس کے لیے آرمی چیف کے عہدے پر توسیع دی گئی اور جب ان کو دوسری بار توسیع دی گئی تو اس توسیع کے شروع ہونے سے پہلے ہی انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور ستائیس اکتوبر انیس سو اٹھاون میں اپنی جگہ جنرل موسی خان کو آرمی چیف مقرر کیا۔ ان کے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی اس میں چار سال کی توسیع کردی اور اس طرح وہ سترہ جون انیس سو سڑسٹھ تک آرمی چیف کے عہدے فائز رہے حالانکہ ا ن کے عہدے کے معیاد انیس سو باسٹھ میں ختم ہورہی تھی۔

جنرل موسی خان کے بعد صدر ایوب نے جنرل یحیْ خان کو انیس سو سڑسٹھ میں ملک کا نیا آرمی چیف مقرر کیا اور ان کے عہدے کی معیاد انیس سو ستر میں ختم ہونا تھی لیکن ایوب خان کے مستعفیْ ہونے کے بعد انہوں نے صدر پاکستان کا عہدہ بھی سنبھال لیا اور بقول ڈاکٹر حسن عسکری جنرل یحیٰ خان نے اپنے آرمی چیف کے عہدے کی معیاد میں بھی اضافہ کیا تاہم انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔

جنرل یحیْ خان کے بعد جنرل گل حسن کو فوج کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا اور وہ بیس دسمبر انیس سو اکہتر سے اکیس جنوری انیس سو بہتر تک قائم مقام فوجی سربراہ رہے۔جنرل گل حسن کو بائیس جنوری انیس سو بہتر کو فوج کا مستقل سربراہ مقرر کیا گیا لیکن تقریبا ایک ماہ بعد ہی انہیں تین مارچ انیس بہتر کو ان کے عہدے ہٹادیا گیا۔

تب ملک کے صدر ذوالفقارعلی بھٹو نے جنرل گل حسن کی جگہ جنرل ٹکا خان کو بری فوج کا سربراہ مقرر کیا۔ جنرل ٹکا خان نے تین مارچ انیس سو بہتر کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا اور اپنے عہدے کی قانونی معیاد مکمل ہونے پر یکم مارچ انیس سو چھہتر کو اس عہدے سے ریٹائر ہوگئے۔

انیس سو تہتر کے آئین کے اجرا کے بعد آرمی چیف کے عہدے پر اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کیا اور ان کا تقرر کرتے وقت تین سینیئر جرنیلوں کو نظر انداز کیا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم بننے کے بعد انیس سو چھہتر میں آرمی چیف کے عہدے کی معیاد کو چار سے کم کرکے تین سال کردیا اور جنرل ضیاء الحق کا تقرر بھی تین سال کے لیے تھا۔اسی سال فوج کے سربراہ کے عہدے کا نام کمانڈر ان چیف سے تبدیل کرکے چیف آف آرمی سٹاف رکھا گیا۔

جنرل ضیاءالحق نے اپنی تقرری کے ایک سال بعد پانچ مئی سنہ انیس ستترکو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مارشل لا لگا دیا۔ بعدازں جنرل ایوب اور جنرل یحیٰ کی طرح جنرل ضیاء الحق بھی ملک کے صدر بن گئے۔

جنرل ضیا الحق صدر پاکستان ہونے کے ناتے آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں خود ہی توسیع کرتے رہے اور فضائی حادثے میں اپنی ہلاکت تک صدر پاکستان اور آرمی چیف کے عہدے پر براجمان رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کے دوران آئین میں جو ترامیم کی گئی ان میں صدر پاکستان کویہ اختیار دے دیا کہ وہ آرمی چیف کا تقرر کریں اور اس طرح یہ اختیار آٹھویں ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم سے صدر پاکستان کے پاس چلا گیا۔

جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے آئینی اختیار کو استعمال کیا اور جنرل مزرا اسلم بیگ کو تین سال کے لیے آرمی چیف مقرر کیا۔ جنرل بیگ تین سال کی قانونی معیاد ختم ہونے پر اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے اور پھر صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے دوسری مرتبہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے جنرل آصف نواز کو فوج کا سربراہ مقرر کیا لیکن وہ اپنی تین سال کی معیاد مکمل ہونے سے قبل ہی انتقال کرگئے۔

غلام اسحاق خان نے جنرل وحید کاکڑ کو آرمی چیف مقر کرکے اس اختیار کو تیسری بار استعمال کیا اور اس طرح وہ پاکستان کے واحد صدر بن گئے جنہوں نے تین فوجی سربراہوں کے تقرر کے احکامات جاری کیے۔

جنرل وحید کاکڑ کے بعد جنرل جہانگیر کرامت کو بینظیر بھٹو دورمیں صدر فاروق لغاری نے آرمی چیف مقرر کیا تاہم بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی اور نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے آئین میں ترمیم کرکے آرمی چیف کی تقرری کا اختیار صدر پاکستان سے واپس لے کر وزیر اعظم کو دے دیا۔

جنرل جہانگیر کرامت اپنے تین سالہ عہدے کی معیاد پوری ہونے سے پہلے اس وقت مستعفیْ ہوگئے جب انہوں نے قومی سلامتی کونسل کی تجویز پیش کی جسے اس وقت کی نواز شریف کی حکومت نے نا پسند کیا۔

نواز شریف نے بطور وزیر اعظم لگ بھگ بیس برس کے بعد آرمی چیف کے تقرر کرنے کے آئینی اختیار کو استعمال کیا اور سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرکے جنرل پرویز مشرف کو فوج کی کمان دی۔

جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر ننانوے میں نواز شریف کی حکومت ختم کردی اور دو ہزار ایک میں ملک کے صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔جنرل پرویز مشرف نے آئینی ترامیم کےذریعے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کا آرمی چیف مقرر کرنے کا اختیار ختم کردیا اور یہ اختیار دوبارہ صدر پاکستان کو دے دیا۔

جنرل پرویز مشرف، جنرل ضیا کی طرح اپنے عہدے میں توسیع کرتے رہے تاہم نومبر دو ہزار سات انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فوج کا سربراہ مقرر کیا جو اب ان فوجی سربراہوں کی قطار میں شامل ہوگئے ہیں جو اپنی عہدے کی قانونی معیاد سے زیادہ عرصہ تک فوج کے سربراہ رہے گے۔

اسی بارے میں