سندھ طاس: ٹیلی میٹری نظام کا فیصلہ

واٹر کمشنر جماعت علی شاہ
Image caption دونوں ممالک کے وفود نے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان اور بھارت نے اعداد و شمار پر مبنی اختلافات کو ختم کرنے اور دریاؤں کے بہاؤ کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ٹیلی میڑری نظام لگانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ طاس کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پاکستان کے واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے کوئی ٹائم فریم تو نہیں دیا جا سکتا تاہم دونوں ممالک کے وفود نے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ بھارتی واٹر کمشنر اورنگا ناتھن نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روک رہا ہے۔

سندھ طاس کمیشن کا ایک سو چھواں اجلاس جمعے کو لاہور میں ہوا جس میں پاکستان اور بھارت کے وفود نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے آبی تنازعات کے حل کے لیے مختلف امور پر بات ہوئی۔

اس اجلاس میں سندھ طاس کمیشن کو مضبوط کرنے کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف دریاؤں کے آبی مقامات کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ تازہ معلومات حاصل کی جائیں۔

بھارتی کمشنر اورنگا ناتھن نے کہا کہ پاکستانی وفد بھارت میں دریائے سندھ کے آبی مقامات کا جائزہ لینے کے لیے اگست میں بھارت کا دورہ کرے گا اور اس کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔

دونوں ملک ٹیلی میڑری نظام لگانے کی حتمی منظوری اگلے اجلاس میں متعلقہ بھارتی ریاستوں کی حکومتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد دیں گے۔

بھارتی کمشنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گلیشئر پگھلنے کا معاملہ سندھ طاس معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ بھارت پاکستان کا پانی روک رہا ہے بلکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت جتنی زمین کو سیراب کر سکتا ہے اس وقت اس سے کم زمینوں کو سیراب کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے واٹر کمشنر کا کہنا تھا کہ بھارت سے ہڈیارہ ڈرین اور دریائے جہلم اور دوسرے مقامات سے آنے والی آبی آلودگی کی روک تھام کے لیے مشترکہ کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان مقامات سے نمونے لے کر حکومتوں کو بتایا جائے گا کہ پانی میں کہاں کہاں سے آلودگی آ رہی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں