لشکر طیبہ عالمی خطرہ، سخت کارروائی کی ضرورت: مولن

فائل فوٹو، ایڈمرل مائیک مولن
Image caption میرا یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں روپوش ہیں: ایڈمرل مولن

امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ ایک بہت خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے امریکی جنرل ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ بہت زیادہ خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ لشکر طیبہ کی صلاحیت بڑھ رہی ہے اور قابل تشویش بن گئی ہے، سب سے قابل ذکر پہلوں اس کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور یہ زیادہ مہک ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کوافغانستان اور خطے سے باہر دوسرے ممالک تک بڑھا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مائیک مولن نے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کو حمایت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں موجود ہے۔

ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی قیادت بڑی محفوظ جگہ پر روپوش ہیں اور انھیں تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔انھوں نے کہا کہ’ میرا یقین ہے کہ اسامہ پاکستان میں ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحد کے قبائلی علاقے القاعدہ کے نیٹ ورک کا گلوبل ہیڈ کواٹر ہیں۔

ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ’ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں جاری سرکشی میں شدت سے سرگرم عمل ہے، اور اس کے خلاف ایک سخت پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔‘

Image caption لشکر طیبہ کے سربراہ مولاناعبدالواحد پاکستان کے زیر انتظام میں

انھوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کے فیصلے کو سراہا لیکن اس کے ساتھ زور دیا کہ حقانی گروپ جو افغانستان کے امن کو خراب کر رہا ہے کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔

ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سب سے زیادہ خطرناک نیٹ ورک ہے جس کا سامنا افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو ہے۔ ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر متعدد بار زور دیا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔ ایڈمرل مولن کے مطابق پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خطرے سے آگاہ ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم اتحادی ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور مدد کو وسعت دی جائے ۔

ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مولن نے کہا کہ پاکستان میں خفیہ طور پر امریکی فوج موجود نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی درخواست پر امریکی فوجی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ صرف تربیت دینے کے لیے ہیں۔‘

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع میں کسی امریکی کردار کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے کوئی ایک ماہ بعد پاکستان نے لشکر طیبہ پر پابندی عائد کی تھی۔ بھارت نے پارلیمان پر حملے کا الزام لشکر طیبہ اور جیش محمد پر لگایا تھا لیکن دونوں تنظیمیں اس کی تردید کرتی رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد لشکر طیبہ کے بانی اور سربراہ حافظ سعید نے خود کو لشکر طیبہ سے الگ کیا اور اس کی جگہ جماعت الدعوۃ تنظیم بنا لی تھی۔

نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ہندوستان نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر عائد کیا اور اس کا موقف یہ ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔

لیکن ان دونوں تنظیموں نے اس الزام کی تردید کی اور جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ اس کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ یہ ایک رفاعی تنظیم ہے۔

اسی بارے میں