ایس ایم ایس: قانونی حیثیت کا فیصلہ

ایس ایم ایس
Image caption امریکہ، فرانس اور انڈیا میں بھی ایس ایم ایس کو عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

پاکستان میں موبائل ٹیلیفون کی شارٹ میسیج سروس یعنی ایس ایم ایس کو قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اکثر ممالک میں ان پیغامات کو قانونی حیثیت حاصل ہے، جو تصویر یا ویڈیو ایس ایم ایس ملتا ہے اسے عدالتیں بطور ثبوت تسلیم کرتی ہیں۔

’اسی تجربے کی بنیاد پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قانونِ شہادت میں ترمیم لائیں تاکہ اگر کوئی تصویر بھیجتا ہے یا موبائل سے کوئی چیز ملتی اور اس کی مدد سے پولیس مجرم تک پہنچ جاتی ہے تو اسے ثبوت طور پیش کیا جائے اور اس میں مدد فراہم کرنے والے کو انعام دیا جائے۔‘

انیس سو چوراسی کے قانون شہادت میں صرف دستاویزات کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور اس میں گواہ کی اہلیت کا تعین کیا گیا ہے۔

امریکہ، فرانس اور انڈیا میں بھی ایس ایم ایس کو عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پانچ ماہ تک موبائل ٹیلیفون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد اٹھانوے ملین تک پہنچ چکی ہے، جس میں آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے تمام موبائل فون کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک سم کارڈ جاری نہ کیا جائے جب تک شناختی کارڈ نہ ہو۔

’انٹیلیجینس اداروں نے بتایا ہے کہ لوگوں کے شناختی کارڈ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے یعنی صارف اپنا شناختی کارڈ ایک سم کے حصول کے لیے دیتا ہے مگر دکاندار یا ڈیلر اس سے کئی سم کارڈ حاصل کرکے فروخت کرتا ہے‘۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی صرف شناختی کارڈ کی کاپی دے کر سم کارڈ حاصل نہیں کرسکے گا، جس شخص کو بھی سم کارڈ چاہیے وہ دکاندار یا ڈیلر کے پاس جائے گا اور اپنی تفیصلات جمع کرائے گا، جس کے بعد اس شخص کو شناختی کارڈ میں فراہم کیے گئے پتے پر سم کارڈ پوسٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تخریب کاری اور جرائم میں استعمال کیے گئے جو سم کارڈ پکڑے گئے ہیں وہ تمام جعلی ناموں پر حاصل کیے گئے، اس بارے میں وہ جلد موبائیل کمپنیوں سے ملاقات کریں گے۔ جب کہ قانون میں ترمیم کی جائے گی اور انسداد دہشت گردی ایکٹ میں اس بارے میں ایک شق شامل کرنے کی بھی تجویز موجود ہے۔

اسی بارے میں