’وزیر کے بیٹے کی ہلاکت میں ملوث نہیں‘

وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین
Image caption مخالفین کے خاندانوں پر اس طرح کے حملوں کو دُرست نہیں سھمجتے: طالبان

تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کی ہلاکت پر کہا ہے کہ وہ اس ہلاکت میں ملوث نہیں ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے بیٹے کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ وہ مخالفین کے خاندانوں پر اس طرح کے حملوں کو دُرست نہیں سھمجتے ہیں۔اعظم طارق کے مطابق تحریک طالبان پاکستان راشد حسین کی ہلاکت میں ملوث نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کہ گزشتہ روز نوشہرہ کے علاقے شیر گڑھی میں نامعلوم مُسلح افراد نے میاں افتخار حسین کے بیٹے راشد حسین کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا تھا جب وہ اپنے چچاذادہ بھائی کے ساتھ اپنے گھر کے قریب کھڑے تھے بعد میں نامعلوم مُسلح افراد ایک گاڑی میں فرار ہوگئے تھے۔

میاں راشد حسین کی عمر اٹھائیس برس تھی اور حال ہی میں انھوں نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ملازمت حاصل کی تھی۔ وہ میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں لیکن وہ دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ایک بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات سے ہمیں اپنے مقاصد سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

میاں افتخار حسین صوبائی حکومت کے ترجمان بھی ہیں اور اس حوالے سے صوبے میں جاری دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں نمایاں رہتے ہیں وہ اکثر کہتے ہیں کہ صوبے میں بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

دو روز پہلے انھوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ پشاور اور اس کے گرد ونواح میں سرچ آپریشن نے بیشتر شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب پشاور میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں