باپ کے کیے کی سزا اکلوتے بیٹے کو ادا کرنا پڑی

میاں افتخار حسین
Image caption جائے وقوع پر صحافی بھی میاں افتخار سے دور رہتے ہیں کیونکہ وہ طالبان کے ہٹ لسٹ پر ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے ساتھ بالآخر وہی کچھ ہوگیا جس کا بہت عرصے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا لیکن اس مرتبہ نشانہ وہ نہیں تھے بلکہ باپ کے کیے کی سزا اکلوتے بیٹے کو ادا کرنا پڑی۔

میاں افتخار حسین کے صاحبزادے میاں راشد حسین کو نامعلوم مسلح افراد نے سنیچر کو پبی کے علاقے میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ طالبان کی طرف سے اس قتل کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے اس ہلاکت سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد تنظیم کے ایک نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔

احسان اللہ احسان سے جب پوچھا گیا کہ طالبان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے آج ہی اس قتل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے تو پھر وہ کیوں یہ ذمہ داری قبول کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’اعظم طارق کسی دور دراز علاقے میں ہیں اس لیے انھیں شاید ابھی تک یہ پیغام ملا نہیں ہے، یہ کارروائی ہم نے کی ہے اور ہم ہی اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جو حملہ آور اس کارروائی کےلیے بھیجے گئے تھے وہ اپنے مقام پر واپس پہنچ بھی چکے ہیں۔

میاں افتخار حسین کا شمار قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ خیبر پختون خوا میں شعلہ بیان مقرر اور ایک دلیر سیاستدان کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ خیبر پختون خوا بلکہ پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں جنھوں نے سب سے پہلے طالبان کے خلاف میدان کھل کر بات کی تو کچھ زیادہ غلط نہ ہوگا۔ انہوں نے سوات طالبان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

گزشتہ سال مارچ میں سوات امن معاہدے کے بعد جب طالبان نے بونیر کی طرف پیش قدمی کا آغاز کیا تو صوبائی حکومت میں میاں افتخار حیسن واحد صوبائی وزیر تھے جنھوں نے سب سے پہلے اس پیش قدمی کی بھرپور مخالفت کی اور طالبان پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ ان دنوں یہ بہت بڑی بات تھی کہ کوئی حکومتی وزیر براہ راست کھل کر عسکریت پسندوں کے خلاف میدان میں آ کر بات کرے۔ یہ ایسا وقت تھا کہ ایک طرح سے طالبان کو پورے مالاکنڈ ڈویژن پر کنٹرول حاصل تھا۔ لیکن دوسری طرف میاں افتخار حسین نے اخباری بیانات اور ٹی وی انٹرویوز میں عسکریت پسندوں کو ’دہشت گرد، قاتل اور بے دین‘ جیسے ناموں سے پکارنا شروع کیا۔

یہ ایسا وقت تھا کہ کراچی سے لے کر خیبر تک تمام سیاستدان طالبان کے حملوں کے خوف کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ کئی وفاقی وزرا اور سیاستدان تو بیرونی دوروں پر جانے کے بعد کئی ماہ تک وہاں قیام کو غنیمت سمجھتے تھے۔

پشاور میں جب دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بعض وزرا ڈر اور خوف کی وجہ سے صوبائی کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت سے کتراتے تھے۔ لیکن اس دوران میاں افتخار حیسن میدان میں ڈٹے رہے اور ہر دھماکے کے تھوڑی دیر بعد جائے وقوع اور پھر مرنے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کےلیے ان کے گھروں پر پہنچ جاتے تھے۔ بعد میں سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔

Image caption میاں افتخار کے بھتیجے میاں امجد حسین جو ان کے بیٹے پی ہونے والے حملے میں زخمی ہو گئے۔

ان دنوں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں وہ ایک ہی بات بار بار دہراتے تھے ’میں نے اپنے سر پر کفن باندھا ہوا ہے اور اب میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ یہ دہشت گرد رہیں گے یا میں رہوں گا، ہماری حکومت دہشت گردوں کو شکست دیکر ہی رہی گی‘۔ یہ ایسا وقت تھا کہ ان دنوں دھماکے بہت زیادہ ہوا کرتے تھے اور جب میاں افتخار جائے وقوع پر موجود ہوتے تو صحافی بھی ان سے دور رہتے ہیں کیونکہ وہ طالبان کے ہٹ لسٹ پر ہیں۔

ایک موقع پر سوات طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میاں افتخار حسین ان کے ہاتھ لگے تو وہ انھیں افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب کی طرح پھانسی دیں گے۔

وہ سوات آپریشن کے دوران مسلسل ذرائع ابلاغ کے ذریعے فوج پر فیصلہ کن آپریشن کےلیے دباؤ ڈالتے رہے۔ کئی مواقع پر انہوں نے اپنی حکومت اور پارٹی پلیٹ فارم سے فوج پر تنقید کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اکثر کہا کرتے تھے کہ فوج کو سوات میں ’ فرینڈلی آپریشن‘ کی بجائے موثر کارروائی کرنی چاہیے اور اس کےلیے ان کی پارٹی ہر قسم کی قربانی دینے کےلیے تیار ہے۔ پھر ان کی پارٹی کو بلاشبہ قربانی بھی دینا پڑی۔

پاکستان میں جس طرح عوامی نشینل پارٹی نے کھل کر طالبان کی مخالفت کی ہے ابھی تک کوئی دوسری جماعت اتنی جرات کا مظاہرہ نہیں کر سکی ہے۔ اے این پی نے طالبان مخالفت کی بھاری قیمت بھی ادا کی ہے اور اب تک مالاکنڈ ڈویژن میں ان کے سو سے زائد کارکن اور ممبران صوبائی اسمبلی طالبان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ فوج کو مالاکنڈ ڈویژن میں ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن پر مجبور کرنے کےلیے عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے اہم کردار ادا کیا اور پھر حکومت میں شامل وزرا میں میاں افتخار ان سب میں پیش پیش رہے۔ لیکن اب جب کہ سوات میں امن قائم ہو چکا ہے تو وہ اکثر اوقات کامیاب آپریشن پر فوج کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ہٹ لسٹ پر ہونے کی وجہ سے حکومت نے میاں افتخار کی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے ان کی بجائے ان کے بیٹے کو نشانہ بنایا۔

اسی بارے میں