راجہ فاروق وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی
Image caption پاکستان کے وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے عدم اعتماد لانے کے الزامات کی تردید کی ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان پیر کی شام کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اپنا استعفیٰ ایسے وقت میں دیا جب منگل کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ان کے خلاف پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری ہونے والی تھی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے استعفیٰ کا اعلان اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

راجہ فاروق حیدر خان اس موقع پر الزام عائد کیا کہ’ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر برائے امور کشمیر منظور احمد وٹو کی ایما پر لائی گئی‘۔

مستعفیٰ ہونے والے وزیر اعظم نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ’ انہوں نے پاکستان کے ان حکمرانوں کی غیر آئینی اور غیر قانونی ہدایات ماننے سے انکار کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے جائز حقوق کی بات کی جو اسلام آباد میں بعض لوگوں کو پسند نہیں آئی۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری سے پہلے ہی استعفیٰ دینے کا مقصد وقت حاصل کر کے اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔

راجہ فاروق حیدر خان کے استعفیٰ کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر موثر ہوچکی ہے اور اس پر اب رائے شماری نہیں ہوسکتی ہے۔

آئین کی رو سے اگر وزیر اعظم اسمبلی اجلاس کے دوران مستعفی ہوجائیں تو ایسی صورت میں اسمبلی کو فوری طور پر نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

اگر اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو تو وزیر اعظم کے استعفے کے چودہ دنوں کے اندر صدر کو نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس طلب کرنا ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا لہذا صدر کو نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے چودہ روز کے اندر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم کے استعفے کے بعد کابینہ تحلیل ہوگئی ہے اور راجہ فاروق حیدر خان نئے وزیر اعظم کے انتخاب تک خود نگران وزیر اعظم کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حکومت مخالف تمام چار جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔

انہوں نے حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کا نام نئے قائد ایوان کے طور پر تجویز کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک عدم اعتماد پر حکمران جماعت کے کسی بھی رکن کے دستخط نہیں تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی سن دو ہزار چھ کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم کانفرنس برسر اقتدار آئی تھی اور سردار عتیق احمد خان وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔

راجہ فاروق حیدر خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیری کے تیسرے وزیر اعظم ہیں جن کے خلاف موجودہ اسمبلی کے اراکین کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تھی۔

اس سے پہلے جنوری دو ہزار نو میں سردار عتیق احمد خان کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزرات عظمی کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

گذشتہ سال اکتوبر میں سردار عتیق کے جانشین سردار یعقوب خان نے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزرات عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور راجہ فاروق حیدر خان نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے تھے۔

راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں وہی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جو ان کے پیشرو دو وزراء اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں لگائے گئے ہیں اور اعتراضات اٹھانے والے بھی وہی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صحافی اور تجزیہ نگار ارشاد محمود اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بار بھی وہی زبان، وہی الفاظ، وہی حرکت اور وہی چہرے ہیں۔ یہ اراکین اسمبلی کے اخلاقی دیوالیہ کا ثبوت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ آئے روز اپنے ذاتی مفادات کی خاطر وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں اور عوام کو ان کا احتساب کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں