’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں تیزی کیوں

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں قومپرست سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات میں حالیہ دنوں تیزی نظر آئی ہے اور گزشتہ چار ماہ میں کم از کم دس بلوچ رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Image caption مقتول بلوچ رہنا حبیب جالب

متاثرین میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن ( بی ایس او آزاد)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور نیشنل پارٹی بظاہر سرفہرست ہیں۔ بلوچ سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے؟ یہ معاملہ جہاں متنازعہ نظر آتا ہے وہاں کافی پیچیدہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ریاستی ادارے ملوث ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس میں کچھ بلوچ علیحدگی پسند مزاحمت کاروں کا ہاتھ ہے۔

بلوچستان نشینل پارٹی (مینگل) کے ایک سرکردہ رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل کہتے ہیں کہ ’سیاسی کارکنوں کے قتل میں ریاستی ادارے اور باالخصوص انٹیلی جنس کے ادارے ملوث ہیں۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ مستونگ میں ایک استاد پر ناکام قاتلانہ حملے کے جو دو ملزم رنگے ہاتھوں عام لوگوں نے پکڑے، ان کی جیبوں سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کارڈ برآمد ہوئے اور پولیس کے حوالے کیے جانے کے باوجود بھی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیے بنا انہیں رہا کردیا گیا۔

رؤف مینگل الزام لگاتے ہیں کہ ’بلوچ مسلح دفاعی آرمی‘ نامی تنظیم جو پاکستان اور اسلام کے حامیوں کا دفاع کرنے کا نعرہ لگاتی ہے، وہ بلوچوں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ میں ملوث ہے اور وہ انٹیلی جنس اداروں کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تین ماہ قبل خصدار انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ’بلوچ کلچرل شو‘ پر حملے میں دو طالبعلم ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے اور جب تربیت یافتہ کتے منگوائے گئے تو قاتلوں کے پاؤں کے نشان کا پیچھا کرتے ہوئے کتے خضدار کے فوجی علاقے میں پہنچے۔ ان کے مطابق چار ماہ قبل جب خضدار میں طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا تو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جلوس پر فائرنگ کی جس میں دو طالبعلم صدارم اور علی دوست بلوچ مارے گئے اور اس واقعہ کی ذمہ داری ’بلوچ مسلح دفاعی آرمی‘ نے قبول کی۔

رؤف مینگل کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں ان کی جماعت کے سیکریٹری جنرل حبیب جالب اور نصیر لانگو کے قتل کے بعد قلات میں ان کے ضلعی رہنما لیاقت مینگل کو قتل کیا گیا اور خضدار میں حاجی عطاء اللہ مینگل حملے میں زخمی ہوئے۔ ان کے بقول نیشنل پارٹی کے سابق ضلعی ناظم مولا بخش دشتی کو قتل کیا گیا جبکہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کے مرکزی نائب چیئرمین عبدالرشید بلوچ حملے میں بچ تو گئے لیکن وہ کراچی کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ بلوچ رہنماؤں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا رؤف مینگل کا الزام اپنی جگہ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسے قتل کی وارداتوں میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں بھی ملوث ہوسکتی ہیں۔

ایسی ہی رائے ہے کوئٹہ کے ایک سینئر صحافی اور ’انتخاب‘ اخبار کے ایڈیٹر انور ساجدی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ہو یا نیشنل پارٹی یہ ایسی جماعتیں ہیں جو پاکستان میں رہتے ہوئے خود مختاری مانگتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ علیحدگی پسند مسلح گروہ انہیں بلوچستان کی آزادی میں رکاوٹ کی پاداش میں نشانہ بناتی ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک بھی مثال نہیں بتائی کہ کسی بلوچ رہنما یا سیاسی کارکن کے قتل کی ذمہ داری کسی علیحدگی پسند گروہ نے قبول کی ہو۔

رؤف مینگل انور ساجدی کی رائے کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے اگر ان کی جماعت سے کوئی سیاسی اختلاف ہے بھی تو وہ نہیں سمجھتے کہ جنگجو انہیں قتل کریں گے۔ ’ہم سیاسی لوگ ہوں یا مسلح مزاحمت کار وہ سب بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور دونوں کی جدوجہد کا طریقہ کار مختلف ہے‘۔

انور ساجدی سے جب پوچھا گیا کہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن تو خود علیحدگی پسند تنظیم ہے پھر ان کی ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے تو انہوں نے کہا کہ اس میں ’بلوچ مسلح دفاعی آرمی‘ نامی تنظیم ملوث ہے، جو ان کے بقول پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کو قتل کرنے اور حامیوں کے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

لیکن بلوچستان کے بعض صحافی اور سیاستدان یہ بھی کہتے ہیں ’بلوچ مسلح دفاعی آرمی‘ نامی تنظیم بلوچستان میں پنجابی آبادکاروں کے خلاف حملوں کے ردِ عمل میں وجود میں آئی ہے۔ ان کے بقول بلوچستان میں پنجابی آبادکاروں کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور نیشنل پارٹی سیاسی طور پر اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن (بی ایس او آزاد) نے پرتشدد انداز میں جو مہم چلائی اور کاروائیاں کیں اب انہیں ’بلوچ مسلح دفاعی آرمی‘ کے ہاتھوں اس کا بدلہ چُکانا پڑ رہا ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں وہ طاقتیں ملوث ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہاں امن قائم ہو۔ اکبر حسین درانی کے مطابق بلوچستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کسی عورت پر ہاتھ اٹھایا گیا ہو اور کراچی کی ایک پروفیسر کا قتل اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں دوسری قوتیں ملوث ہیں۔

کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جو حالات خراب ہوئے وہ پرویز مشرف کے جانے اور ایک نئی منتخب اور جمہوری حکومت کے قائم ہونے سے بھی تبدیل نہیں ہوئے اور جمہوری حکومت کے ڈھائی سالہ دور میں یہ حالات سنبلھنے کے بجائے ابتر ہی ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں