’لاپتہ ڈاکٹر کے متعلق معلومات فراہم کریں‘

فائل فوٹو، لاہور ہائی کورٹ
Image caption کسی شہری کو بغیر ثبوت حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی کوئی ادارہ قانون سے بالاتر ہے: عدالتی ریماکس

لاہور ہائی کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ جناج ہسپتال لاہور کے لاپتہ ڈاکٹر علی عبداللہ کے بارے میں عدالت کو معلومات فراہم کریں کہ وہ کہاں ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں خود عدالت میں پیش ہوں۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے یہ حکم لاپتہ ڈاکٹر کے والد ڈاکٹر سرفراز احمد کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ درخواست گزار کے لاپتہ بیٹے کو بازیاب کرایا جائے۔

آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر کی گئی درخواست میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اسد منظور بٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر علی عبداللہ جناح ہسپتال میں ملازمت کرتے ہیں اور دس جولائی سے لاپتہ ہیں جب کہ ان کی گمشدگی کا مقدمہ بھی گیارہ جولائی کو درج کروایا گیا لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہیں۔

وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ’ پندرہ جولائی کو مقامی میڈیا میں ایسی خبریں شائع ہوئیں کہ ڈاکٹر علی عبداللہ کا جماعت احمدی کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں اور جناخ ہسپتال پر ان حملوں کےملزم کو فرار کروانے کے لیے کیے گئے حملے سے کسی نہ کسی طرح تعلق ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ درخواست میں یہ بھی کہاگیا کہ درخواست گزار کو یہ شبہ ہے کہ ان کا لاپتہ بیٹا خیفہ ادارے کی تحویل میں ہوسکتا ہے تاکہ جناح ہسپتال پر ہونے والے حملے کے بارے میں یہ تحقیقات کی جاسکیں کہ آیا لاپتہ ڈاکٹر علی عبداللہ کا اس سے کوئی تعلق ہے یا نہیں کیونکہ نہ صرف احمدیوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کے زخمی بلکہ ایک حملہ آور بھی اس وقت جناح ہسپتال میں زیر علاج تھا جب ہسپتال پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا تھا۔

وکیل کے مطابق’ ایک مقامی انگریزی اخبار نے بھی یہ خبر شائع کی کہ درخواست گزار کے بیٹے کو آئی ایس آئی نے جناح ہسپتال پر ہونے والے حملے کے شبہ میں تحویل میں لیا ہے۔‘

سماعت کے دوران ہائیکورٹ کے جج نے ریمارکس دیئے کہ کسی شہری کو بغیر ثبوت حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی کوئی ادارہ قانون سے بالاتر ہے۔

وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ آئی ایس آئی کے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت کی جائے کہ وہ لاپتہ ڈاکٹر کی ان کی ماں اور وکیل سے ملاقات کرائیں۔

درخواست پر آئندہ سماعت چار اگست ہوگی۔

اسی بارے میں