’مجوزہ ترامیم انسانی حقوق کے خلاف ہیں‘

پاکستان پولیس
Image caption پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کومزید اختیارات دینا قابل تشویش ہے کیونکہ یہ ادارے پہلے ہی انسانی حقوق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے

انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں مجوزہ ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے ارکان پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انسداد دہشت گردی کے قانون سے انسانی حقوق متاثر نہ ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں مجوزہ ترامیم نہ صرف انصاف کے مروجہ طریقۂ کار بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہیں۔ ان کے بقول انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جانے والا بل اس آرڈینینس کا چربہ ہے جو سنہ دوہزار نو میں جاری کیا گیا تھا۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کی کارروائیوں اور دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے متعلقہ قانون کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ان ممنوعہ گروہوں سے نمٹنے کے لیے جو نئے ناموں کے تحت اپنی مذموم کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم ان کے بقول پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کومزید اختیارات دینا قابل تشویش ہے کیونکہ یہ ادارے پہلے ہی انسانی حقوق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ کمیشن کو تحقیقات کے لیے کسی شخص کو نوے دن تک حراست میں رکھنے پر شدید تشویش ہے۔ جب کہ کمیشن ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور رازداری کے بارے میں کسی تحفظ اور مناسب نگرانی کی عدم موجودگی میں پولیس کو لامحدود اختیارات دینے کے بھی سخت خلاف ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے تمام ارکان پارلیمان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بات کو یقین بنائیں کہ انسانی حقوق دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی قابل اعتراض کوششوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے اپیل کی کہ ارکان پارلیمان اس بات کو بھی یقین بنانے کی کوشش کریں کہ پولیس کی نااہلی اور اختیارات کا غلط استعمال عوام کو ان کے انسانی حقوق سے محروم کرنے کا باعث نہ بنے۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سکریٹری راجہ ذوالقرنین نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں وہ ظالمانہ ہیں۔ ان کے بقول ایک بڑی تعداد میں گمشدہ افراد کے خاندان سڑکوں پر مارے مارے پھررہے ہیں اور اب قانون میں ترمیم کے بعد افراد کے گمشدہ ہونے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

راجہ ذوالقرنین کے بقول انسداد دہشت گردی کے قانون میں جو ترامیم کی جا رہی ہیں وہ ایک سازش ہے اور اس سلسلے میں پیش کیا جانے والا بل عوام دشمن ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سکریٹری نے شہری آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کالے قوانین کی بھرپور مذمت کریں۔

اسی بارے میں