طیارے کی نچلی پرواز کو دیکھا

تباہی کی تازہ تصویر
Image caption کراچی سے اسلام آباد آنے والا جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا

مون سون سے بھیگی صبح اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک طیارے کی آواز سن کر چونکا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو سامنے سرکاری لڑکیوں کے سکول کے اوپر سے ایک مسافر طیارے کو کافی نیچی پرواز کرتے پایا۔

اس کے بعد گھر کے باہر سڑک پر ٹرک کے شور کو دوسرا طیارہ سمجھ کر میں اور میری بیوی بھاگ کر کمرے سے باہر آئے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔

یہ تو فضائی روٹ نہیں ہے۔ اسلام آباد میں تین برسوں کی رہائیش کے دوران اس سے قبل تو یہاں مسافر طیارہ پہلے نہیں دیکھا کبھی، یہ کیا ہے۔

طیارہ کافی نیچی پرواز کر رہا تھا لیکن آواز سے کسی خرابی یا مسئلہ کا اندازہ نہیں ہوا۔ کافی گہرے اور نیچے بادلوں میں سے بھی طیارہ چھن چھن کر نظر آ رہا تھا۔

طیارہ جس علاقے پر پرواز کر رہا تھا وہ ایف فائیو یا سیکس کا تھا۔ اس علاقے کے قریب ہی اہم ترین سرکاری عمارتیں جن میں ایوان صدر اور پارلیمان بھی شامل ہیں۔

طیارہ گزر گیا تو واپس کمرے میں آکر اخبار کا مطالعہ شروع کر دیا۔ کوئی دھماکہ نہ سنائی دیا۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی بند تھا لہذا فوری کسی تباہی کی خبر بھی نہ ہوئی۔ دفتر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ طیارہ تو حادثے کا شکار ہوگیا۔

ذہن میں مختلف سوالات اٹھنے لگے کہ آیا یہ تکنیکی حادثہ تھا یا نہیں۔ اگر تکنیکی تھا تو اسلام آباد کے انتہائی جنوب میں واقع ہوائی اڈے سے اس نے انتہائی شمال کی جانب انتہائی حساس علاقے کا رخ کیوں کیا؟ ہوائی اڈے کا رن وے جنوب سے شمال مغرب کی جانب ہے لیکن جو روٹ اس طیارہ نے اختیار کیا وہ انتہائی غیرمعمولی ہے۔

یہ کم و بیش وہی روٹ ہے جس پر فوجی ہیلی کاپٹر سوات یا ہزارہ کے علاقوں کو آیا جایا کرتے ہیں۔

وجہ جو بھی ہو مجھ جیسے کتنے لوگوں نے اس مشکل میں پھنسے تقریبا ڈیڑھ سو مسافروں کے اس طیارہ کو دیکھا لیکن دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں