آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 جولائ 2010 ,‭ 18:37 GMT 23:37 PST

مارگلہ کریش: تحقیقات شروع کر دی گئیں

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(جائے حادثہ کی قریب سے بنائی گئی فٹیج)

مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہونے والے طیارے کے سانحے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اس ضمن میں حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹیگیشن بورڈ کے صدر ائر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں بننے والی سات رکنی ٹیم میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں اس کے علاوہ حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔

کلِک جہاز مارگلہ پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ: تصاویر

کلِک نچلی پرواز کے جہاز کو دیکھا

کلِک پاکستان کا نجی ہوائی نقشہ

اس تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے جائے حادثہ سے کچھ شواہد اکھٹے کیے ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوایا دیا گیاہے۔

کمیٹی کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب تک حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر نہیں مل جاتا اُس وقت تک اس بات کا سراغ لگانے میں کامیابی نہیں مل سکتی کہ حادثے کی وجوہات کیا تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حادثہ سے پہلے طیارے کے پائلٹ اور اسلام آباد ائرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے جو آخری رابطہ ہوا تھا اُس کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں گی اور عوام کو اس سانحے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی اطلاع ہے تو وہ اس سانحے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش ہو لیکن اس سانحے کے بارے میں چہ مگوئیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔

حادثے میں ممکنہ شدت پسندی کے عنصر سے متعلق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے پر بھی تفتیش کرے گی۔ انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ چند روز میں اس معاملے کی ابتدائی رپورٹ مل جائے گی۔

اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن بنیامین کا کہنا ہے کہ شدید بارش اور خراب موسم کی وجہ سے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں تعطل کا شکار ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ طیارے کے ملبے کے نیچے کچھ مزید لاشیں یا اُن کے اعضا ہوں۔

تباہ ہونے والے طیارے کے بلیک باکس سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ پولیس اور اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) کے اہلکاروں نے جائے حادثہ سے پانچ کلومیٹر دور تک بلیک باکس کو تلاش کیا لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔