پنجاب کے کئی علاقوں سے انخلا شروع

Image caption نوشہرہ سے نقل مکانی

پنجاب کے مختلف علاقوں کو بارشوں، آبی ریلوں اور دریائی سیلاب کی وجہ سے تباہی کا سامنا ہے۔ محکمہ فلڈ ریلیف کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔محکمہ موسمیات کےمطابق اگلے چند گھنٹوں میں بڑاسیلابی ریلہ دریائے سندھ کے کنارے واقع جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں تباہی مچا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے سیلاب کی پیشگوئی کرنے والے ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر اور دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر غیر معمولی طور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور جب یہ ریلا پنجاب کے علاقوں میں داخل ہوگا تو بڑی تباہی کا خطرہ ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع ضلع لیہ میں سیلابی کا ابتدائی ریلہ داخل ہوچکاہے اور جس کی وجہ سے کئی ہزار ایکڑ اراضی اور گھر زیر آب آچکے ہیں۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ریلف رضوان اللہ بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے سے لوگوں کا انخلاء پہلے سے شروع کردیا گیا ہے اور اب تک بڑی تعداد میں آبادیاں نقل مکانی کرچکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر سات لاکھ کیوسک کا ایک اور بڑا ریلہ پہنچ رہا ہے اور چند گھنٹوں میں وہ ضلع لیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ بڑی تعداد میں نقل مکانی کے باوجود مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی متاثرہ علاقوں میں پھنسی ہوئی ہے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر انہیں فوری منتقل نہ کیا گیا تو جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

حکومت پنجاب کےترجمان کےمطابق میانوالی شہر کو بچانے کےلیے جناح بیراج کےمقام پر دریائے سندھ کے بائیں جانب کا بند توڑ دیا گیا ہے جس سے داؤد خیل اور کالاباغ کا علاقہ زیر آب آگیا ہے۔

دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب بھی طغیانی میں ہے اور دونوں دریاؤں کے اردگرد والے لیکن خاص طور درمیانی علاقے خطرے میں ہیں۔ ضلع منڈی بہاءالدین سے لوگوں کا بڑی تعداد میں انخلاء جاری ہے جبکہ گجرات کے بعض علاقے بھی سیلاب کی زد میں آنے کا خطرہ ہے۔

راجن پور،ڈیرہ غازی خان اور خوشاب میں پہاڑی آبی ریلیوں نے تباہی مچا رکھی ہے محکمہ ریلف پنجاب کے مطابق ستر ہزار کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں۔

حکومت پنجاب کے مطابق گذشتہ دوہفتوں کےدوران ہونے والی بارشوں پہاڑی آبی ریلوں اور دریائی سیلاب کی وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں میں چونتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ راولپنڈی میں نالہ لئی کے اردگرد کی کئی بستیاں خالی کرالی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق نالہ لئی کے سیلاب میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ ریلف رضوان بیگ کے مطابق بڑے دریائی ریلے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر پنجاب میں داخل ہوجائیں گے جس سے وسیع علاقہ زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں