آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 31 جولائ 2010 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

مارگلہ کریش: بلیک باکس ملا گیا

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(جائے حادثہ کی قریب سے بنائی گئی فٹیج)

مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والے نجی فضائی کمپنی کے مسافر طیارے کے ملبے سے بلیک باکس مل گیا ہے۔

سنیچر کو بلیک بکس طیارے کا ملبہ کاٹنے کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔بلیک بکس میں وائس ریکارڈر، پرواز کا ریکارڈ اور کاک پٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔

سول ایوسی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل جنید امین نے بی بی سی کو بتایا کہ بلیک بکس حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے پاس رہے گا۔

انھوں نے بتایا کہ بلیک بکس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کی سہولت جرمنی اور فرانس میں موجود ہے۔

کلِک جہاز مارگلہ پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ: تصاویر

کلِک نچلی پرواز کے جہاز کو دیکھا

کلِک پاکستان کا نجی ہوائی نقشہ

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو جنید امین نے بتایا کہ بلیک بکس ملنے کے بعد امید ہے کہ تحقیقات جلد مکمل کر کے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹیگیشن بورڈ کے صدر ائر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں بننے والی سات رکنی ٹیم میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں اس کے علاوہ حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انوسٹیگیشن بورڈ کے صدر ائر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں بننے والی سات رکنی ٹیم میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں اس کے علاوہ حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے جمعہ کو موسم بہتر ہونے کی وجہ سے اس واقعہ کی کلِک تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان اور امدادی کارکنوں نے اپنا کام دوبارہ شروع کیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا ہے کہ پچانوے فیصد امدادی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ طیارے کے ملبے کو ٹکڑوں میں کاٹ کر نیچے منتقل کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ سنیچر کو ملبے سے مسافروں کا سامان بھی ملا ہے اور اس کے علاوہ انسانی عضا بھی ملے ہیں۔

دریں اثنا حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے شناخت کا عمل جاری ہے۔ اب تک چھیانوے مسافروں کی شناخت ہو گئی ہے اور انھیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔