نوشہرہ:’ سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے‘

تجاول خان
Image caption چور باقاعدہ کشتیوں میں آتے ہیں اور سامان کو چوری کرکے واپس کشتیوں میں چلے جاتے ہیں: تجاول خان

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے متاثرین کی رہائش کے لیے نہ تو کوئی عارضی کیمپ قائم ہیں اور نہ ہی انھیں کھانے پینے کا سامان دستیاب ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سیلاب سے دس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ پشاور سے نوشہرہ جانے والی مرکزی شاہراہ پر جگہ جگہ متاثرین چار پانچ دنوں سے کُھلے آسمان تلے پڑے نظر آتے ہیں۔

ان متاثرین میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔اس کے علاوہ ان میں ایک بڑی تعداد افغان مہاجرین کی شامل ہیں۔

نوشہرہ کے علاقے زاخہ خیل میں پچاس سالہ تجاول خان نے بتایا کہ ایک طرف وہ بارش سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کے گھر کا زیادہ تر سامان سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے اور کچھ سامان انہوں نے اپنے کندھے پر اُٹھا کر یہاں تک پہنچایا ہے لیکن اب یہاں سامان چوری ہونا شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چور باقاعدہ کشتیوں میں آتے ہیں اور سامان کو چوری کرکے واپس کشتیوں میں چلے جاتے ہیں اور پولیس کی جانب چوروں کے خلاف ابھی تک کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

لنڈاکائی کے رہائشی مروت خان نے بتایا کہ وہ بہت مُشکل حالت میں یہاں پہنچے ہیں اور سب کچھ اپنے گھر میں چھوڑ کر صرف خواتین اور بچوں کو پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب انھیں حکومت کی جانب کوئی مدد نہیں ملی ہے اور وہ حکومت کی مدد کے منتظر ہیں۔

بانڈہ کے رہائشی شاہد خان نے بتایا کہ ان کا گاؤں مکمل طور پانی میں ڈوب گیا ہے۔جو لوگ پہلے نکل گئے تھے وہ محفوظ ہیں لیکن جو لوگ وہاں پھنس گئے ہیں ان کا کچھ معلوم نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ آ رہے تھے تو ایک طرف دریا کابل کا پانی اوپر آ گیا تھا اور دوسری طرف بارش اتنی تیز تھی کہ خواتین اور بچے اس میں سفر نہیں کر سکتے تھے بس ایک مشکل حالت میں پہنچے ہیں۔

زاخہ خیل کے قریب سڑک کے کنارے آبادہ افغان مہاجر ملک میرزا خان نے بتایا کہ وہ سب سے زیادہ تکلیف میں ہے کیونکہ وہ افغان مہاجر ہیں ان کو نہ کشتی ملتی ہے اور کوئی امداد، وہ صرف خدا کی مدد کے منتظر ہے۔

مُحب بانڈہ کے رہائشی جواد احمد نے بتایا کہ وہ ایک گھنٹہ پہلے اپنے گاؤں سے پبئ پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ ہزار کے قریب لوگ اب بھی ان کے گاؤں میں پھنس ہوئے ہیں۔ لوگ گھروں سکولوں اور مدرسے کے چھتوں پر چھڑے ہیں اور ہر جگہ پانی ہی پانی ہے۔ انہوں بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پھنسے ہوئے لوگوں پر خوراک گرائی جا رہی ہے۔

لیکن نیچے گرنے سے زیادہ ترخوارک ضائع ہوجاتی ہے اور بہت کم خوارک لوگوں تک پہنچ پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے اکثر تھیلےگرتے وقت ٹوٹ جاتے ہیں اور کھانے کے قابل نہیں رہ جاتے۔

اسی بارے میں