پنجاب میں سیلاب کی خراب ہوتی صورتحال

فائل فوٹو، امدادی کارروائیاں
Image caption اگلے دو دنوں میں سیلاب کی صورتحال مزید بگڑے گی اور ایک وسیع اراضی زیرآب آنے کا امکان ہے: رضوان اللہ بیگ

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلاب کی صورتحال آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے مزید تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع کے بعد ہلاکتوں کی تعداد سینتیس ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک سو آٹھ بتائی جا رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کے سیلاب کی پیشن گوئی کرنے والے ڈویژن کے مطابق یکم اگست سے تین اگست تک تونسہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح غیر معمولی طور پر انتہائی اونچے درجے کی ہو جائے گی جو کہ آٹھ لاکھ پچاس ہزار کیوسک سے لے کر نو لاکھ پچاس ہزار کیوسک کے درمیان متوقع ہے۔

دریائے سندھ میں یہ سیلابی صورتحال ضلع بھکر، لیہ مظفر گڑھ اور راجن پور کے نشیبی علاقوں میں شدید تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

اس وقت دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر غیر معمولی طور پر اونچے درجے کا سیلاب ہے دریائے جہلم میں رسول کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا اور دریائے کابل پر نوشہرہ اور دریائے جہلم پر منگلا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار مونا رانا کا کہنا ہے کہ ریلیف اور کرائسز مینیجمنٹ کے ادارے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک پنجاب کے متاثرہ دس اضلاع میں مجموعی طور پر تین سو تریپن دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔

جس سے ایک لاکھ بائس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد متاثرہ اراضی میں سے قابل کاشت اراضی دو لاکھ نوے ہزار ایکڑ ہے۔اس سیلاب سے پانچ ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر جرنل ریلیف رضوان اللہ بیگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میانوالی شہر کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچانے کے لیے کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر شگاف کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس شگاف سے چھوٹے چھوٹے دیہات زیر آب آ گئے لیکن وہاں موجود آبادی کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سیلاب سے اب میانوالی کے نشیبی علاقے زیر آب گئے اور پہلے سے متاثرہ لیہ ضلع میں مزید سیلابی ریلہ داخل ہو گا اور جب یہ سیلابی ریلہ تونسہ سے گزرے گا تو ڈیرہ غازی خان راجن پور اور ضلع رحیم یار خان کے نشیبی علاقوں میں تباہی کا سبب بنے گا۔

رضوان اللہ بیگ کے مطابق اگلے دو دنوں میں سیلاب کی صورتحال مزید بگڑے گی اور ایک وسیع اراضی زیرآب آنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن نشیبی علاقوں سے سیلابی ریلا گزرے گا وہاں سے آبادی کا انخلا پہلے ہی کیا جا چکا ہے تاہم ضلع میانوالی میں جو افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے ہیں ان کو نکالنے کے لیے فوج کے چار ہیلی کاپٹروں نے ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاع کے مطابق تونسہ کے مقام پر درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں ہیں اور ان علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں