سندھ میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے انخلا کا فیصلہ

سیلاب
Image caption بارشوں اور سیلابوں کی آخری گزر گاہ دریائے سندھ ہوگی۔

سندھ میں نو لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی آمد کے خدشے کے پیش نظر صوبائی حکومت نے پانچ اضلاع سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے، امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کئی شعبوں میں انتظامی ایمرجنسی کا نفاذ کر دی گئی ہے۔

انڈس ریور سسٹم اٹھارٹی یعنی ارسا نے سندھ حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ تین سے چار اگست کو نو سے ساڑھ نو لاکھ کیوسک پانی کا ایک ریلہ سندھ میں داخل ہوگا۔

جس کے بعد حکومت نے دریائے سندھ کے ڈیڑھ سو کے قریب مقامات کو حساس قرار دیا ہے اور محکمہ آبپاشی، روینیو، پولیس، صحت، رلیف شہری دفاع، تعلیم، لائیو سٹاک کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

صوبائی ڈزاسٹر مئنیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ محمد صالح فاروقی کا کہنا ہے کہ پانچ اضلاع کشمور، سکھر، شکارپور، خیرپور اور گھوٹکی کے کچے کے علاقے سے آبادی کا فوری انخلا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ آبادی ہے جن کے لیے نوے سے زائد رلیف کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں اتنی مقدار میں پانی نہیں آیا اس لیے کچے میں لوگوں نے گھر بنالیے ہیں ان کا خیال تھا کہ اب اتنا پانی نہیں آئے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ لوگوں کے انخلا کے انتظامات پہلے کرنے چاہیں تھے مگر اب جب پانی آ پہنچا تب یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

آب پاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں دریائے سندھ سے تیرھ لاکھ کیوسک تک پانی کا ریلا گذر چکا ہے مگر کئی سالوں سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے پانی دریا کے پشتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج نو لاکھ کیوسک پانی کی گنجائش رکھتا ہے اس سے زائد نہیں ماضی میں تو یہاں سے گیارہ لاکھ کیوسک تک پانی گذرا ہے مگر اب وہ نہیں سمجھتے کہ اب اتنا پانی گذرے گا کیونکہ دریا کے پشتوں کی مضبوطی پر کام نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں