ضلع نوشہرہ سیبلاب زدہ علاقے

طوفانی بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والا صوبہ خیبر پختون خوا کا ضلع نوشہرہ بدستور پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور اس علاقے کے آس پاس سڑکیں اور مکانات سیلابی پانی میں ڈوب کر کسی دریا کا منظر دکھائی دیتے ہیں۔

نوشہرہ کہ علاقے اضاخیل سے رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے پشاور شہر سے تقریباً بیس پچیس کلومیٹر دور ضلع نوشہرہ کی جانب اضاخیل کے مقام پر مرکزی جی ٹی روڈ کے بیس پچیس کلومیٹر کے علاقے میں سڑک کے دونوں جانب ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔

کئی مقامات پر مکانات، دوکانیں، سکول، دینی مدرسے ، فصلیں، باغات اور بازار پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اضاخیل افغان مہاجر کیمپ بھی بدستور پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور کیمپ کے مکین علاقہ چھوڑ محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ کیمپ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ بے سرو سامانی کے عالم میں ہیں لیکن انھیں حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملی بلکہ لوگ خود اپنے مدد اپ کے تحت خواتین اور بچوں کو محفوظ پر منتقل کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ موبائل ٹیلی فون سروس اور دیگر مواصلاتی نظام درھم برھم ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے میں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

سیلاب اور بارشوں سے پشاور کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جہاں چند مقامات پر اب بھی لوگ سیلاب کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔

مضافاتی علاقہ محب بانڈہ کے ایک رہائشی سید رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گاؤں دریا کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے سیلاب میں مکمل طورپر ڈوب گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگ تین دن تک مکانات کے چھتوں پر مدد کےلیے پکارتے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کےلیے نہیں پہنچا۔ ’ ہمارے گاؤں کے اسی فیصد مکانات تباہ ہوکر پانی میں بہہ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ لوگ بدستور وہاں پر پھنسے ہوئے ہیں۔’

سید رحمان کے مطابق فوج کے ہیلی کاپٹر دو تین دنوں سے ادھر ادھر ہوا میں گھوم رہے ہیں لیکن مدد فراہم نہیں کر سکے۔ صرف چند لوگوں کو فوج کے کشتیوں میں ڈال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ابھی تک کوئی عوامی نمائیندہ بھی یہاں نہیں آیا۔

حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر نوشہرہ کے ایک باشندے سہیل کاکاخیل نے بتایا کہ شہر کے زیادہ تر علاقے بدستور پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں افراد بدستور مکانات کے چھتوں پر مدد کےلیے پکار رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو بروقت امداد نہ ملنے کی وجہ سے عوام حکومت اور ان کے نمائندوں سے انتہائی مایوس ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زیادہ تر لوگ حکومتی لاپرواہی کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

وادئ سوات، دیر، کالام

ادھر بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے وادی سوات ، دیر آپر اور دیر لوئر میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ وادی کالام کے ایک مقامی صحافی رحمت دین صدیقی کا کہنا ہے کہ سیلاب نے کالام کا پورا نقشہ تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن بارشوں کی وجہ سے تقریباً پینتیس کے قریب ہوٹل تباہ ہوکر پانی میں بہہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مینگورہ کالام سڑک پر بنے پل پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں سیاح، خواتین اور بچوں سمیت بدستور کالام میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں