’تباہ کاریوں کا اندازہ ابھی لگانا مشکل‘

ہیلی کاپٹر
Image caption سیلاب زدہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درھم برھم ہوچکا ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی حقیقی تباہ کاریوں کا اندازہ اس لیے نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں تک رسائی میں بدستور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مینول بیسلز نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا کہ مزید بتایا کہ صرف وادی سوات میں پینتالیس رابط پل بہہ گئے ہیں۔ اہلکار کے بقول اس بات کا بھی صحیح اندازہ اس وقت ہی لگایا جا سکے گا کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں جب پانی اترے گا اور حالات معمول پر آنے شروع ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان سیلاب زدہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درھم برھم ہوچکا ہے جب کہ سڑکیں اور شاہراہیں بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

قومی ادارہ برائے آفات این ڈی ایم اے کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں تیس ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ وزارتِ داخلہ کے دو اور پاک فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر سنیچر سے امدادی کارروائیوں میں شامل ہو گا۔

دو ہیلی کاپٹر کوہستان کے علاقے پتن میں پھنسے چینی کارکنوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں ایک پچاس کشتیاں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ جمعہ تک پندرہ ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کی جا چکا ہے۔

صوبہ پنجاب میں بارہ سو فوجی اہلکار بیس کشتیوں کے ساتھ مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں بائیس جولائی کو آنے والے سیلاب کے بعد سے تیرہ سو فوجی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اس سے قبل پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ امریکہ سیلاب زدگان کے لیے امدادی کارروائیوں میں معاونت کی غرض سے پاکستان کو سات ہیلی کاپٹر مہیا کر رہا ہے۔

اسی بارے میں