’سیلابی ریلہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘

کراچی (فائل فوٹو)

صوبہ سندھ کے سابق سکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ سندھ سے گزرنے والا سیلابی ریلہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گزشتہ چودہ برس سے کوئی بڑا سیلاب نہیں آیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے حساب سے اس وقت ساڑھے دس لاکھ کے بجائے زیادہ سے زیادہ نو لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ گزرے گا مگر وہ نو لاکھ کیوسک بھی کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گزشتہ چودہ برس سے کوئی بڑا سیلاب نہیں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہوتا یہ ہے کہ ہر سال اگر سیلاب آئے تو پشتے پانی کو جذب کرتے رہتے ہیں اور مضبوط رہتے ہیں۔ لیکن اگر یہ پشتے برسوں سیلاب نہ آنے کی وجہ سے خشک رہیں تو ان میں دراڑیں پڑتیں ہیں، ان میں چوہے اپنے بل بنا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر پشتے مسلسل خشک رہنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتے ہیں۔‘

ادریس راجپوت کے مطابق اسی وجہ سے اس مرتبہ پشتوں کو زیادہ خطرہ ہے کیونکہ گزشتہ چودہ برس سے سیلاب نہ آنے کے سبب پشتے خشک پڑے ہیں اور کمزور ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں جب سیلاب داخل ہوتا ہے تو اس کے راستے میں پہلے گدو بیراج آتا ہے۔ سکھر بیراج دوسرے نمبر پر ہے اور پھر کوٹری بیراج ہے۔

’پہلی بات تو یہ ہے کہ ان بیراجوں سے سلامتی کے ساتھ پانی کا گزرنا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے دونوں جانب دریائی پشتے ہیں۔ کیونکہ سیلاب کے دنوں میں پانی کی سطح دریا کے دونوں جانب کی زمینوں سے اونچی ہوتی ہے، اگر یہ پشتے نہ ہوں تو یہ پانی پورے سندھ کو ڈبو دے۔‘

’سیلاب کے دنوں میں بنیادی ترجیح اور کام یہ ہوتا ہے کہ یہ پانی بیراجوں اور پھر پشتوں کے درمیان سے بھی سلامتی کے ساتھ گزر جائے اور ان میں کہیں شگاف نہ پڑے۔ اگر شگاف پڑ گیا تو پانی کے سامنے جو بھی گاؤں شہر یا قصبے آئیں گے وہ متاثر ہوں گے اور یہ پانی اس وقت تک بہتا رہے گا جب تک دریا میں پانی کم نہ ہو جائے۔‘

ادریس راجپوت سے جب پوچھا گیا کہ ماضی میں کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اتنا بڑا سیلابی ریلہ آیا ہو کہ بیراجوں کے لیے خطرہ محسوس کیا گیا ہو تو ان کا کہنا تھا کہ ’انیس سو بانوے میں گدو بیراج پر دس لاکھ چھیاسی ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزرا تھا اور اوپر کی جانب تین چار دریاؤں میں بائیس لاکھ کیوسک پانی تھا۔ اس زمانے میں بیراجوں پر کہیں بھی نقصان نہیں ہوا تھا اور کسی بند میں بھی شگاف نہیں پڑا تھا۔‘

اس طرح کی صورتحال میں کیا کارروائیاں کی جاتی ہیں اور کیا طریقۂ کار موجود ہے کہ نقصان سے بچا جا سکے۔ اس بارے میں ادریس راجپوت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی امریکہ کے میسیسیپی دریا کی مینیجمنٹ کے طرز پر طریقۂ کار بنایا گیا ہے۔

انگریزوں کے زمانے میں انیس سو ایک میں سندھ کا ایک انجینئر امریکہ گیا تھا اور میسیسیپی دریا کے انتظامی طریقۂ کار کا جائزہ لے کر آیا تھا۔

’اسی کے مطابق یہاں پر پشتے بنائے گئے ہیں۔ یہ مٹی کے پشتے ہیں جن پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور چوبیس گھنٹے گشت کیا جانا چاہیے تا کہ جہاں بھی کوئی شگاف یا دراڑ نظر آئے اسے فوری طور پر بھر دیا جائے۔ اگر کسی دراڑ کو چند گھنٹوں تک نہ دیکھا جائے تو وہ شگاف میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‘

ادریس راجپوت نے بتایا کہ سندھ میں دریا کے دونوں جانب پشتوں کی لمبائی بارہ سے تیرہ سو میل تک ہے اور سیلاب کے دوران ان کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’ اس وقت بھی حکومت کو چاہیے کہ پشتوں کی مسلسل نگرانی کرے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کوئی بھی چھوٹی دراڑ شگاف میں تبدیل ہو جائے گی اور نقصان ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلابی ریلے کا بہاؤ کم کرنے کے لیے کسی پشتے کو کم آبادی والی جگہ پر دانستا طور پر کاٹنے کی حکمت عملی سے کام نہیں لیا جاسکتا۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر دریا سے ایک مرتبہ پانی نکل جائے تو وہ دریا میں واپس نہیں آتا۔’پشتوں میں دانستا طور پر شگاف ڈالنے کی حکمت عملی پر صرف پنجاب میں عمل کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں دریا وادیوں میں بہتے ہیں اور شگاف سے نکلنے والا پانی واپس دریا میں آجاتا ہے۔‘

ادریس راجپوت نے بتایا کہ اسی وجہ سے پنجاب میں دریا میں شگاف کے لیے مختلف سیکشن بنے ہوئے ہیں اور جب بھی وہاں کے محکمۂ آبپاشی کو پتہ چلتا ہے کہ سیلابی ریلے کی مقدار بیراج کی گنجائش سے زیادہ ہے تو وہ ان خاص مقامات پر شگاف ڈال کر سیلابی ریلے کے دباؤ کو کم کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا سندھ میں کیا جائے تو وہ خطرناک ثابت ہوگا۔

اسی بارے میں