’وحید برادران دبئی کی تحویل میں ہیں‘

ارشد وحید
Image caption ڈاکٹر ارشد دو سال قبل وزیرستان میں امریکی میزائل حملے میں مارے گئے تھے

پاکستان حکومت نے تصدیق کی ہے کہ دبئی سے مبینہ طور پر لاپتہ ڈاکٹر اکمل وحید اور اسد وحید دبئی حکام کی تحویل میں ہیں۔

وزرات خارجہ کی جانب سے تحریری طور پر سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دبئی حکام نے ڈاکٹر اکمل وحید، ان کے بھائی اسد وحید اور ڈاکٹر ایاز کو تحویل میں لیا تھا جن میں سے ڈاکٹر ایاز کو بعد میں رہا کردیا گیا۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ دونوں بھائیوں سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے یہ تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس غلام سرور کورائی اور محمد علی مظہر پر مشتمل بینچ نے وزارت خارجہ کے جواب کے بعد مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

ڈاکٹر اکمل وحید اور اسد وحید کے بڑے بھائی اجمل وحید نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اکمل وحید اور اسد کبھی کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں رہے اور نہ ہی ریاست مخالف، فرقہ وارانہ تعصب پرستی یا دہشت گردی کی کسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں، بطور ڈاکٹر، اکمال وحید نے ہمیشہ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کے مطابق اکمل وحید ماہر امراض قلب اور اسد وحید کامرس گریجوئیٹ ہیں۔ اس سے قبل ڈاکٹر اکمل اور ان کے بھائی ارشد وحید کو کراچی میں کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے انہیں سزا سنائی تھی۔

اس سزا کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اور عدالت نے دونوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر ارشد دو سال قبل وزیرستان میں امریکی میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔

درخواست گذار کا موقف ہے کہ اپریل دو ہزار سات میں اسد وحید کو دبئی کی رئیس خیمہ میڈیکل کالیج میں بطور ایڈمنسٹریٹر کا کام کرنے کا موقعے ملا اور وہ اپنے اہل خانہ سمیت وہاں منقتل ہوگئے۔ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ڈاکٹر اکمل وحید بھی اپنی فیملی کے ساتھ دبئی منتقل ہوگئے۔

ان کے مطابق کراچی میں مقیم ان کے والدین اس وقت صدمے سے دوچار ہوگئے جبکہ میڈیا کے ذریعے انہیں یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر اکمل وحید ان کے بھائی اسد وحید اور پاکستانی شہری ڈاکٹر ایاز فراز، ڈاکٹر وسیم چار اپریل دو ہزار دس سے لاپتہ ہیں۔

اجمل وحید کا کہنا ہے کہ دبئی پولیس نے ان کے اہل خانہ کو خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں اور ہدایت کی کہ وہ کسی انسانی حقوق کی تنظیم یا میڈیا سے اس بارے میں بات نہ کریں تفتیش کے بعد انہیں رہا کیا جائے گا۔

بعد میں کچھ اخبارات نے دبئی میں پاکستان کے سفارتخانے کے حوالے سے خبر شایع کی کہ ڈاکٹر ایاز اور اسد وحید سمیت آٹھ افراد مقامی حکام کی تحویل میں ہیں جبکہ کچھ روز بعد اخبارات میں یہ بھی شایع ہوا ہے کہ انہیں امریکہ کی زیر نگرانی عقوبت خانے گوانتانامو بے منتقل کیا جارہا ہے۔

درخواست گذار کے مطابق پاکستان حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، دبئی کےانٹلی جنس ادارے ڈاکٹر اکمل وحید اور اسد وحید پر تشدد کرے رہے ہیں جس سے ان کی زندگی خطرے میں ہے ان کو وطن واپس لانے کا بندوبست کرے۔چونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں اس لیے انہیں دبئی کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ قید وگمشدہ ان لوگوں کی اپنے رشتے داروں سے ملاقات کرانے کا بندوست کرے۔

درخواست گذار اجمل وحید نے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور دبئی سفارتخانے کو فریق بنایا ہے۔

اسی بارے میں