سندھ: دس لاکھ لوگوں کے انخلا کا فیصلہ

فائل فوٹو، خیر پختوانخواہ میں سیلاب
Image caption کچے کے علاقے سے ابھی تک صرف بیس سے پچیس فیصد لوگوں کا انخلا ممکن ہو سکا ہے: صالح فاروقی

صوبہ سندھ میں حکام کے مطابق سیلاب سے بچنے کے لیے کچے کے علاقے سے دس لاکھ لوگوں کے انخلا کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

انخلا کے منصوبے میں پولیس رینجرز اور فوج کی مدد حاصل کی جائے گی۔

حکام کے مطابق بدھ کو گڈو کے مقام پر ساڑھے نو سو سے ساڑھے دس لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے دوسرے روز یہ پانی سکھر بیراج پہنچ جائے گا۔

’سیلابی ریلہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘

منگل کو سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ صالح فاروقی نے نیوز کانفرس میں بتایا کہ پنجاب میں دریائے سندھ کو تونسہ کے قریب جو کٹ لگایا گیا ہے جس سے تھوڑا خطرہ کم ہوا اور پانی کے ریلے میں ایک لاکھ کیوسک تک کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کچے کے علاقے سے دس لاکھ لوگوں کا انخلا کیا جائے جب کہ ابھی تک صرف بیس سے پچیس فیصد لوگوں کا انخلا ممکن ہو سکا ہے اور اس سلسلے میں مقامی لوگوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

صالح فاروقی نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی کے منصوبے میں دریائے سندھ کو کٹ لگانا شامل نہیں جب کہ انہوں نے تجویز دی ہے کہ اس کو شامل کیا جائے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ موجود بریگیڈیئر محمد آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جب کٹ لگایا جاتا ہے تو وہ پانی واپس دریا میں آجاتا ہے مگر سندھ میں ایسی صورتحال نہیں ہے اور کٹ کی صورت میں علاقہ ڈوب جائے گا۔

تاہم صالح فاروقی کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال ہوجائے تو اس کے بعد دریا کو کٹ لگایا جائے۔

صالح فاروقی نے بتایا کہ سکھر میں ایک بڑی آبادی دریا کے پاس رہتی ہے جس کا انخلا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اب لوگوں کا جبری انخلا کیا جائے گا کیونکہ کوئی رسک نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ نیوی کی پچیس کشتیوں کی امدادی کاموں کے لیے حاصل کی گئی ہیں جب کہ ائر فورس کو بھی الرٹ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو نکالنے میں مدد حاصل کی جائے۔

اسی بارے میں