چارسدہ:’خوش ہیں کہ بال بچوں کو بچا لیا‘

Image caption چارسدہ شہر سے باہر سڑک کے کناروں پر دونوں جانب کوئی ایسا مکان نظر نہیں آیا جسے نقصان نہ پہنچا ہو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شدید بارش اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ لوگ کئی دن بعد بھی اپنےگھروں سے باہر کُھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اکثر مکانات اب بھی پانی سے بھرے پڑے ہیں۔جن لوگوں کے گھروں سے پانی نکل گیا ہے ان کے گھروں میں اتنا کیچڑ بھر گیا ہے جسے صاف کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق پشاور سے چارسدہ کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں موٹروے کے دونوں جانب متاثرین تباہ شدہ مکانات سے اپنے ضروری چیزیں نکالتے ہوئے نظرآئے۔

ان متاثرین کے گھر تباہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اب موٹر وے کے آس پاس علاقوں میں خمیے لگا کر پناہ لے رکھی ہے۔

یہاں لوگوں سے بات چیت کی تو ایک متاثرہ عصام اللہ نے بتایا کہ جب پانی آیا تو کسی کو اپنے مال سنھبالنے کا موقع نہیں ملا اور سب کچھ تباہ ہوگیا۔

انہوں کہا کہ ان کے گھروں میں اٹھارہ فٹ تک پانی چلاگیا تھا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف کوئی امداد نہیں ملی ہے۔

ُادھر ضلع چارسدہ میں سیلاب اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ چارسدہ میں سب سے زیادہ تباہی تین دریاؤں، جیندے، خیالے اور سردریاب کے کنارے واقع دیہاتوں میں ہوئی ہے جہاں بعض مقامات پر گاؤں کے گاؤں سیلابی ریلوں میں بہہ کر صفا ہستی سے مٹ چکے ہیں۔

چارسدہ شہر سے باہر سڑک کے کناروں پر دونوں جانب کوئی ایسا مکان نظر نہیں آیا جسے نقصان نہ پہنچا ہو۔

اپنے تباہ شدہ مکان کے سامنے کھڑے مقامی وکیل آصف محمود جن کے کپڑے کیچڑ سے گندھے تھے نے بتایا کہ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔لیکن پھر بھی وہ خوش ہے کہ انہوں اپنے بال بچوں کو بچا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا ہے وکیل کے مطابق اب لوگ سمجھے ہیں کہ یہ سیاسی لوگ صرف وقت کے دوست ہے

چارسدہ شہر کو دیہات سے ملانے والے تمام رابط پل پانی میں بہہ چکے ہیں جس کی وجہ سے کئی مقامات پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔

Image caption وہ بہت تلکیف میں ہیں۔ فوجی اہلکار صرف آتے ہیں اور پانی کے چند ڈبے دے کر واپس چلے جاتے ہیں: نوشاد

افسر آباد کے ایک باشندے عبد الوالی نے روتے ہوئے کہا کہ ان کا پورا گھر سیلابی پانی کی نذر ہو چکا ہے انہوں نے بتایا کہ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہے اور وہ کئی دنوں سے کُھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔

کسی کی طرف سے کچھ نہیں مل رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خدا رہ ان کے لیے کھانے پینے اور رات گزارنے کے لیے چند بستروں کا انتظام کیا جائے بس اس کے علاوہ ان کچھ ضرورت نہیں۔

چارسدہ کے رہائشی نوشاد کا کہنا تھا کہ وہ بہت تلکیف میں ہیں۔ فوجی اہلکار صرف آتے ہیں اور پانی کے چند ڈبے دے کر واپس چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھانے اور رات گزارنے کے لیے بسترے نہیں موجود نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف کپڑوں کے ایک جوڑے میں گھر سے نکلے ہیں اب دوسرا جوڑا نہیں کہ وہ گندھے کپڑے کو صاف کر لیں۔انہوں نے شکایت کی کہ وہ پاکستان کا کیا کریں اور حکومت اور پولیس کا کیا کریں گے کہ ان ساتھ کوئی تعاون نہیں کرتا۔

تاہم دوسری طرف چارسدہ بازار میں کوئی خاص تباہی نہیں ہوئی ہے مگر دیہاتی علاقوں میں جو نقصانات ہو چکے ہیں اس کا اندازہ لگانے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں