’جنوبی اضلاع میں بارشوں سے مزید تباہی‘

فائل فوٹو، چارسدہ سیلاب
Image caption اعظم مچن خیل میں سیلابی ریلے میں پانچ افراد بہہ گئے ہیں جن میں سے ایک کی لاش ملی ہے اور چار کی تلاش جاری ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بدھ کو دوسرے روز بھی موسلادھار بارش جاری ہے جس کی وجہ امدای کاموں میں سخت مُشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کلاچی میں پہلے سے تباہ شدہ درجنوں دیہات ایک بار پھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر اور فوجی چھاونی کو سیلابی ریلے سے بچا لیا ہےلیکن قریبی دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ٹانک اور کلاچی کی جانب سے آنے والے سیلابی ریلہ ایک درجن سے زیادہ دیہاتوں میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے شورکوٹ سے ایک عینی شاہد عماد لدین نے بتایا کہ شورکوٹ،گرہ حیات،گرہ رحمان، پشں پُل، کچے کا علاقہ اور سگو مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سینکڑوں افراد حکومت کی امداد کے منتظر ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی طرف کسی قسم کی امداد نہیں ملی ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ لکی مروت میں بھی بدھ کو موسلادھار بارش اور سیلابی ریلے میں ایک شخص ہلاک جب کہ چار افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ گمبیلا پُل میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جس کے بعد سے پُل کو بھاری ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے۔

سرکاری اہلکار نورالاآمین نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لکی مروت کے شمالی حصے میں سیلابی ریلے نے ایک درجن سے زیادہ دیہاتوں کو نقصان پہنچایا ہے اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اعظم مچن خیل میں سیلابی ریلے میں پانچ افراد بہہ گئے ہیں جن میں سے ایک کی لاش ملی ہے اور چار کی تلاش جاری ہے۔اہلکار کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں