آخری وقت اشاعت:  بدھ 4 اگست 2010 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

پاکستان: بارشوں سے مزید تباہی، ہلاکتوں کی تعداد سولہ سو چالیس ہو گئی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ مینوئل بیسلر نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے سولہ سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد تقریباً پینتیس لاکھ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سیلاب سے نمٹنا ایک بڑا چیلینج ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سیلاب زدہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا کام جاری ہے اور کل تک وہاں سترہ ہزار کے قریب لوگ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سیلاب کا سلسلہ ابھی چل رہا ہے اور فی الوقت حتمی اعداد وشمار تو نہیں دیے جاسکتے لیکن ان کے مطابق انہوں نے حکومت کی مشاورت سے منصوبہ بندی کے لیے کچھ اعداد و شمار تیار کیے ہیں۔

مینوئل بیسلر نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سولہ سو لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ گھرانے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب میں دس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بیشتر لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف پہنچایا گیا ہے جب کہ پنجاب میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چالیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرین کے لیے کھانے پینے اور ادویات کی کوئی قلت نہیں ہے البتہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور انہیں وبائی امراض سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب بڑا سیلابی ریلا صوبہ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے اور سندھ میں بھی نقصان اور لوگوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بدھ کو دوسرے روز بھی موسلادھار بارش جاری ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کلاچی میں پہلے سے تباہ شدہ درجنوں دیہات ایک بار پھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر اور فوجی چھاؤنی کو سیلابی ریلے سے بچا لیا ہے لیکن قریبی دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق بدھ کی رات ٹانک اور کلاچی کی جانب سے آنے والا سیلابی ریلہ ایک درجن سے زیادہ دیہاتوں میں داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

کلِک ’جنوبی اضلاع میں بارشوں سے مزید تباہی‘


بالائی سوات میں خوراک کی قلت

فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے وادی سوات میں سیلاب اور تباہ کن بارشوں کی وجہ سے بالائی سوات تک زمینی آمد و رفت بدستور معطل ہے جس کی وجہ سے تقریباً آٹھ لاکھ کے قریب افراد کوخوراک اور ادوایات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اپر سوات سے رکن صوبائی اسمبلی جعفر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بالائی سوات کی طرف جانے والے تمام زمینی راستوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت گزشتہ ایک ہفتہ سے بدستور معطل ہے۔ جس کی وجہ سے مدائن، بحرین اور کالام میں رہنے والے افراد کو غذائی اجناس اور ادوایات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں تک جانے والی سڑکوں پر بنے تمام پل سیلابی پانی میں بہہ چکے ہیں اور اب ان مقامات تک زمینی راستے سے جانے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ہیلی کاپٹر سروس ہی واحد ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں اور اگر ان تک فوری طورپر امداد نہیں پہنچائی گئی تو حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں اور وہاں وبائی امراض کے پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔

ایم پی اے کے مطابق کالام، بحرین، مانکیال ویلی، اورتروڑ، تراٹ اور بٹی گرام کے علاقوں میں سیلاب سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں اس وقت خوراک، ٹینٹ اور ادوایات کی اشد ضرورت ہے۔

کالام کے ایک مقامی صحافی رحمت دین صدیقی کا کہنا ہے کہ ادوایات کی کمی کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور خصوصاً بچے ان بیماریوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اورتروڑ میں تین خواتین زچگی کے دوران بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کے سیلااب کی وجہ سے علاقے میں تقریباً پانچ سو سے زائد رہائشی مکانات تباہ ہوچکے ہیں جس کے باعث تقریباً پانچ سے چھ ہزار افراد بے گھر ہونے کے بعد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

ان کے بقول ان علاقوں میں عالمی امدادی اداروں اور حکومت کی طرف سے متاثرین کے لیے کسی قسم کی کوئی امداد تا حال دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نظر نہیں آ رہا۔

ادھر وادی سوات کے صدر مقام مینگورہ کے قریب واقع مٹہ اور کبل تحصیلوں کا دورہ کرنے والے مقامی صحافی شیرین زادہ نے بتایا کہ ان تحصیلوں میں بھی لاکھوں افراد کو اشیاء خورد و نوش اور ادوایات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں مہنگائی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ان میں آٹا ،ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں اسی سے سو فیصد تک بڑھی ہیں۔

دریں اثناء پاکستانی فوج نے کہا کہ ہے کہ خیبر پختون خوا ہ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ پشاور سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع اپر دیر میں شیرینگل پتراک سڑک کی ضروری مرمت کردی گئی ہے۔ جب کہ تین ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے دیر اور کوہستان کے علاقوں میں خوراک پہنچائی گئی ہے۔

دیر کے علاقوں خال چکدرہ اور شرینگل کے مقامات پر فری میڈیکل کمیپ لگائے گئے ہیں جہاں چار سو افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

بیان کے مطابق ضلع ہنگو ، مہمند اور خیبر ایجنسیوں میں بھی پانی میں بہہ جانے والی سڑکیں ضروری مرمت کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

سوات کے بالائی علاقوں میں پھنسے ہزاروں افراد کو نکالنے کے لیے ایک بڑا امدادی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بدھ کو موسم صاف ہونے پر امدادی کارروائی شروع کی گئی ہے جس میں انیس ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔

بالائی سوات کی وادی کالام میں اس وقت عورتوں اور بچوں سمیت تین ہزار کے قریب سیاح بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سیاح کالام کے امن میلے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

ستائیس لاکھ آبادی سے زمینی رابطہ منقطع

سوات کا تباہ شدہ پل

ضلع سوات میں تقریباً سترہ پل سیلابی پانی سے تباہ ہوچکے ہیں

خیبر پختون خوا میں حکام اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سیلاب سے مرکزی پل کے پانی میں بہہ جانے سے تقریباً ستائیس لاکھ آبادی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

پشاور میں قدرتی آفات سے نمٹنے کےلیے قائم ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی سے کو بتایا کہ چکدرہ کے مقام پر مرکزی پل کا ایک حصہ پانی میں بہہ جانے سے تین اضلاع اپر دیر، لوئر دیر اور چترال سے زمینی رابطہ پچھلے چار پانچ دنوں سے مکمل طورپر کٹا ہوا ہے۔

عدنان خان نے کہا کہ سوات کے بالائی حصوں میں تمام پل تباہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ان تمام علاقوں کا مینگورہ شہر سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے۔

کلِک مصائب کے شکار لوگ، تصاویر

ان تینوں اضلاع یعنی اپر دیر، لوئر دیر، چترال اور بالائی سوات کی کل آبادی تقریباً ستائیس لاکھ ہے اور ان علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے خوراک اور دیگر امدادی سامان بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عدنان خان کے مطابق ضلع سوات میں تقریباً سترہ پل سیلابی پانی میں تباہ ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے دریائے سوات کے کنارے آباد لوگوں کا آپس میں زمینی رابطہ گزشہ کئی دنوں سے منطقع ہے۔ ان کے بقول بالائی سوات میں کئی سیاح بھی بدستور کالام اور دیگر علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چکدرہ پل کی ہنگامی بنیادوں پر مرومت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ہلاکتیں اور متاثرین کی تعداد

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ایلچی روانہ کر رہے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیلاب سے اب تک چودہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے تقریباً پچیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز حکام نے مرنے والوں کی تعداد گیارہ سو بتائی تھی۔ تاہم یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے متاثر ہونے والوں کی تعداد تیس لاکھ بتائی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے چار اضلاع، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور پشاور، میں متاثر ہونے والوں کی تعداد نو لاکھ اسی ہزار ہے۔

امریکی اور دیگر امداد

بدھ کو چھ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر پاکستان کی درخواست پر پہنچے ہیں۔ پاکستان پہنچنے والے ان امریکی ہیلی کاپٹروں میں چار شنوک اور دو بلیک ہاک ہیلی شامل ہیں۔

امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ امریکی ہیلی کاپٹر پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ علاقوں میں پہنچانے اور انہیں امدادی اشیاء فراہم کرنے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں حصہ لیں گے۔

ادھر امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ امریکی حکومت نے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کے علاوہ جس کا اس نے شروع میں اعلان کیا تھا بڑی تعداد میں اشیائے خورد و نوش، بارہ پہلے سے تیار شدہ پل، چار کشتیاں اور ضرورت کا دیگر سامان فراہم کیا ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے سولہ ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔

متاثرہ شمال مغربی علاقوں میں بارش اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد اب ہیضے جیسی بیماریوں کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

کلِک سندھ: دس لاکھ لوگوں کے انخلا کا منصوبہ

سندھ میں سیلاب کی صورتحال

دریں اثنا پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں اس صدی کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ سندھ میں حکام نے سیلابی ریلے کے پیش نظر کچے کے علاقے سے دس لاکھ لوگوں کے انخلا کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔