بس حادثے میں اکیس مسافر ہلاک

Image caption پاکستان اور اس زیر انتظام کشمیر میں اکثر بسوں کے حادثے ہوتے رہتے ہیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک مسافر بس حادثے کا شکار ہوکر دریائے جہلم میں گرگئی جس کے نتیجے میں اکیس افراد ہلاک اور دس سے پندرہ مسافر لا پتہ ہیں ، ان کی تلاش جاری ہے لیکن اندھیرا ہوجانے کے باعث امدادی کاروائیاں متاثر ہورہی ہیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق مظفرآباد کے ّڈپٹی کمشنر چوہدری امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ مسافر بس سرحد قصبے چکوٹھی سے مظفرآباد آرہی تھی کہ بھڈیارا کے مقام پر حادثے کا شکار ہوکر دریائے جہلم میں جاگری۔ یہ مقام مظفرآباد کے جنوب میں کوئی چوبیس کلومیڑ کے فاصلہ پر واقع ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں کم از کم اکیس افراد ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں دریائے جہلم سے نکال لی گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے لیکن وہ زخمی ہیں اور ان کو مقامی اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ بس میں پنتالیس سے پچاس افراد سوار تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ دس سے پندرہ افراد لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لئے امدادی کاروائیاں جارہی ہیں۔ جس میں زیادہ تر مقامی رضا کار ، پولیس اور فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

رضا کاروں کا کہنا ہے کہ دریا کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث امدادی کاروائیوں میں دشواری پیدا ہورہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ یہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سرینگر جانے والی روڈ بری طرح متاثر ہونے کے باعث اس سڑک پر سفر کرنا عام حالات میں بھی غیر محفوظ ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سڑکوں اور گاڑیوں کی خراب حالت اور تیز رفتاری کے باعث ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں اور پانچ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد حادثات میں اضافہ ہوا اور اس کی بڑی وجہ سڑکوں کی خراب حالت ہے۔