شدت پسندی، مشترکہ تحقیاتی ٹیم کیوں نہیں؟

فائل فوٹو
Image caption اسلام آباد میں شدت پسندی اور سکیورٹی اہم مسئلہ ہیں

پاکستان کی حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدت پسندی کے واقعات کی تفتیش میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل نہ دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

یہ اقدام اسلام آباد میں تعینات مختلف ملکوں کے سفارت کاروں کی طرف سے اسلام آباد میں شدت پسندی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد کی عدم ثبوت کی بنا پر رہائی کے بعد تفتیشی اداروں کی کاکردگی پر اُٹھنے والے سوالیہ نشان کی بنا پر کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے شدت پسندی کے آٹھ اہم واقعات کی جانچ پڑتال کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل نہیں دی گئیں۔

ان مقدمات میں سنہ دو ہزار چھ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سے برآمد ہونے والے راکٹ لانچرز، دوہزار سات میں لال مسجد آپریشن کے بعد درج ہونے والا مقدمہ، سنہ دوہزار آٹھ میں ڈنمارک سفارت خانے کے باہر ہونے والا خودکش حملہ، سنہ دوہزار نو میں سپیشل برانچ اور مارگلہ روڈ پر فرنٹئیر کانسٹیبلری کے باہر ہونے والے خودکش حملے، سنہ دوہزار آٹھ میں میلوڈی مارکیٹ کے قریب پولیس اہلکاروں پر ہونے والہ خودکش حملہ اور سنہ دوہزار میں اسلام آباد کے نواحی علاقے سہالہ سے برآمد ہونے والے آتش گیر مادہ جیسے مقدمات بھی شامل ہیں۔

یہ مقدمات راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ ان مقدمات میں سے لال مسجد اور ڈنمارک کے سفارت خانے پر ہونے والے خودکش حملوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر بری ہوچکے ہیں۔

Image caption تفتیش کی زیادہ تر ذمہ داری پولیس کے سر ہوتی ہے

اس سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان مقدمات میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں نہ ہونے کی وجہ سے ان مقدمات کی تفتیش معیار کے مطابق نہ ہونے کے سبب ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد بری ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تفتیشی اداروں کی خامیاں بھی سامنے آرہی ہیں۔

وِزرات داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈنمارک سفارت خانے کے حکام نے سفارت خانے پر ہونے والے خودکش حملے میں گرفتار ہونے والے افراد کی رہائی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس مقدمے کی دوبارہ جانچ کے لیے کہا ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد میں تعینات سفارتی برادری نے بھی اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل سمیت دیگر اہم مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کی رہائی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ راولپنڈی پولیس نے پاکستان ریلوے میں تعینات ڈاکٹر عبدالرزاق سمیت دیگر افراد کو پاکستانی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہونے والے خودکش حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یہ ملزمان ڈنمارک سفارت خانے پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث ہیں تاہم عدالت نے اُنہیں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا۔

شدت پسندی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی ٹیموں میں شامل ایک اعلی پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے جب ان واقعات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جاتی ہے اس ٹیم میں انٹرسروسز انٹیلیجنس، انیلیجنس بیورو، ایف آئی اے اور پولیس اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اصل میں سارا کام پولیس اہلکاروں کو ہی کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کبھی بھی ان مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں فیلڈ میں نہیں گئے البتہ ان مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کرنے سے پہلے ان اداروں کے متعلقہ افسران سے دستخط ضرور کروائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں