سندھ میں دس لاکھ لوگوں کا انخلا

Image caption سندہ میں انخلا

محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ اس وقت گدو کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جو سکھر کی طرف بڑہ رہا ہے، صوبائی وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دہاریجو نے ہمارے ساتھی ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دس لاکھ کے قریب لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، جس میں صوبائی حکومت کی پولیس، رینجرز فوج اور نیوی نے مدد کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پانی کا بڑا ریلا ہے جو اس وقت سندھ کی حدود سے گذر رہا ہے اس کے بعد آنے والا پانی اتنا دباؤ نہیں ڈالے گا۔ جام سیف اللہ کے مطابق حفاظتی پشتوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے جہاں بھی کچھ خرابی نظر آتی ہے اسے درست کردیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اوباوڑو میں تیس، پنوعاقل میں اسی، شکارپور میں پچاس، خیرپور میں سو اور دادو میں کچے کے پانچ سے زائد دیہات زیر آْچکے ہیں۔ جبکہ پچھلے دنوں بنائی گئی خیرپور لاڑکانہ پل پر پانی کا دباؤ ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگ ڈائریا اور جلدی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، جن میں سے ستائیس ہزار کے قریب مریضوں کو ہپستالوں اور کئمپوں میں لایا گیا ہے۔

محکمہ صحت کی جانب سے ستائیس کئمپیں لگائی گئی ہیں جن میں سے شکارپور کے ایک موبائیل کیمپ میں دو اموات کی اطلاعات ہیں، ڈائریا کے زیادہ تر کیسز ٹنڈو محمد خان، بدین، کشمور میں پیش آئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے بعد بحریہ کے افسران نے بھی اپنی تین روز کی تنخواہ سیلاب زدگان کے رلیف فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے، ایک اعلامیے کے مطابق اہلکار اپنی دو روز کی تنخواہ اس فنڈ میں دیں گے۔

دوسری جانب نیوی کے ترجمان کے مطابق سکھر، کشمور، گھوٹکی، پنو عاقل، روہڑی اور خیرپور کے کچے سے آٹھ ہزار لوگوں کو نیوی کے جوانوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ ان علاقوں میں پانی اور زمین پر چلنے والی کشتیاں ھوور کرافٹ بھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں