آخری وقت اشاعت:  جمعـء 6 اگست 2010 ,‭ 09:30 GMT 14:30 PST

پاک برطانیہ تلخی، زرداری کیمرون ملاقات

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان لندن کے قریب چیکرز میں ملاقات ہو رہی ہے۔

دونوں رہنما اس ملاقات میں ڈیوڈ کیمرون کے بیان جس میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر سوال اٹھایا تھا پر پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے پہلے دونوں رہمناؤں کے درمیان جمعرات کو ایک عشائیے پر غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگی حکمتِ عملی، نیٹو افواج کی افغانستان میں جاری مہم اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت پر بات چیت ہو گی۔

اس سے پہلے دونوں رہمناؤں کے درمیان جمعرات کو ایک عشائیے پر غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو ان گروہوں کےساتھ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں جو دوسرے ممالک میں شدت پسندی پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم برداشت نہیں کر سکتے ہیں کہ پاکستان دو عملی کا مظاہرے کرے اور یہ کہ بھارت، افغانستان یا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی پھیلانے کا باعث بنے‘

ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان پر حکومتِ پاکستان نے احتجاج کیا تھا۔ تاہم وہ اپنے بیان پر قائم رہے۔

صدر آصف علی نے ڈیوڈ کیمرون کے بیان پر کہا تھا کہ وہ اُن کے ساتھ اپنی ہونے والے ملاقات میں اس مسئلے پر بات کریں گے۔

ٹین ڈاؤننگ سڑیٹ کے ترجمان کے مطابق ’ صدر زرداری کے دورہ برطانیہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط تعلقات میں مذید بہتری آئے گی اور برطانیہ پاکستان کے استحکام، سیکورٹی کی صورتحال اور جمہوریت کی کامیابی کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں رہمنا اختلافات کو ختم میں ابھی کتنے دُور ہیں۔

نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کے بیان سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات متاثر نہ ہوں۔

ٹین ڈاؤننگ سڑیٹ کے ترجمان کے مطابق ’صدر زرداری کے دورہ برطانیہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط تعلقات میں مزید بہتری آئے گی اور برطانیہ پاکستان کے استحکام، سیکورٹی کی صورتحال اور جمہوریت کی کامیابی کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔‘

دونوں رہنما پاکستان میں آنےوالے تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔