آخری وقت اشاعت:  اتوار 8 اگست 2010 ,‭ 07:10 GMT 12:10 PST

خیبر پختونخوا میں امدادی کام معطل

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

امدادی کاروائی فائل فوٹو

ہیلی کاپڑ کے ذریعے متاثرہ افراد کو مخفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے، این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث صوبہ خیبر پختون خواہ میں ہیلی کپٹروں کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ اور پھنسے افراد تک خوراک کی ترسیل رک گئی ہے اور تمام ہیلی کاپٹر جو یہ کام کر رہے تھے گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ مطلع صاف ہو اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں۔

جنرل ندیم نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کی جگہ اب کشتیوں کو امدای اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کشتیاں ان اندورنی علاقوں تک نہیں پہنچ سکتیں جہاں تک ہیلی کپٹروں سے رسائی ممکن ہے۔

انہوں نے متاثرہ اور پھنسے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر پانی عبور کر کے نکلنے کی کوشش نہ کریں اور اس کی بجائے قریب ترین اونچی جگہ پر امداد پہنچنے کا انتظار کریں۔

جنرل ندیم کا کہنا ہے کہ پہلے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سیلابی ریلے گزرنے کے بعد خیبر پختون خواہ میں حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے لیکن یہ قیاس درست ثابت نہیں ہوا کیونکہ بارشیں دوبارہ شروع ہو گئیں اور جب سیلاب کے بعد بارشیں ہوتی ہیں تو ان کا اثر اور زیادہ ہوتا ہے کیونکہ زمین میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

پہلے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سیلابی ریلے گزرنے کے بعد خیبر پختون خواہ میں حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے لیکن یہ قیاس درست ثابت نہیں ہوا کیونکہ بارشیں دوبارہ شروع ہو گئیں اور جب سیلاب کے بعد بارشیں ہوتی ہیں تو ان کا اثر اور زیادہ ہوتا ہے کیونکہ زمین میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم

دوسری جانب پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاورخان وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر میں ایک ٹرک سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے۔ جس میں سوار چھ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے۔

لوئردیر میں پولیس اہلکار افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام پانچ بجے کے قریب تالاش سے تیمرہ گرہ جانے والا ٹرک شمشی خان خوڑ کے مقام پر سیلابی پانی میں بہہ گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق گاڑی میں پچیس افراد سوار تھے جن میں چھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور سات افراد کو زخمی حالت میں بچا لیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور سماجی کارکن باقی لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گیارہ افراد لاپتہ ہیں۔ اہلکار کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کی صُبح سے لوئر دیر میں ایک بار پھر شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے تازہ سیلابی ریلے میں دیر کے مختلف علاقوں میں تیس مکانات سیلابی ریلے میں بہ گئے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔