’لاکھوں کو طبی امداد کی ضرورت‘

سیلاب متاثرین
Image caption سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں زیادہ تر پیٹ اور جلد کی بیماریوں والے مریض ہیں:ہاشم رضا

آفت زدہ علاقوں میں طبی امداد فراہم کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیم ’میدسیں ساں فرانتیے‘ کے پاکستان میں سربراہ بینوا دی گریزے نے بتایا ہے کہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض تو نہیں پھوٹے لیکن لاکھوں لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے منگل کو بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ یقینی بات ہے کہ کہیں بھی وبا نہیں پھیلی لیکن سیلاب زدہ لوگوں کی صحت کی صورتحال کافی پیچیدہ ہے اور میں یہ نہیں کہ سکتا کہ حالات قابو میں ہیں‘۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان بھر میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جس میں ساٹھ لاکھ بچے شامل ہیں۔ لیکن ’میدسیں ساں فرانتیے‘ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تاحال وہ صرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متاثرہ لوگوں کو طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔

’ہماری سات موبائل کلنکلس کام کر رہی ہیں اور روزانہ صرف ایک ہزار سے زائد لوگوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہیں لیکن اس شعبے میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سو غیر ملکی اور بارہ سو پاکستانی عملے کے ہمراہ وہ پاکستان میں امدادی کام کر رہے ہیں اور بہت جلد پنجاب اور سندھ کے سیلاب زدگاں کی امداد کے لیے وہ کام شروع کر رہے ہیں۔

مسٹر بینوا دی گریزی نے بتایا کہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں زیادہ تر لوگ جِلد اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ملیریا کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ طبی امداد کے علاوہ متاثرہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی اور صفائی کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ’ہمارے پاس ساٹھ لاکھ ٹن ادویات، صفائی کے آلات اور مختلف اشیاء پہنچ گئی ہیں اور وہ مختلف علاقوں میں تقسیم کر رہے ہیں‘۔

’میدسیں ساں فرانتیے‘ کے سربراہ نے بتایا کہ ان کی تنظیم یومیہ پچاسی ہزار لٹر پینے کا صاف پانی متاثرین کو فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تباہ شدہ صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کا تباہ شدہ نظام بحال کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔

ادھر صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے سیکریٹری ہاشم رضا نے بتایا ہے کہ سندھ کے بالائی پانچ اضلاع جہاں سے سیلاب کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے وہاں ہر ضلع میں انہیں نے میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں اور تاحال وہ مختفل امراض والے سات ہزار مریضوں کو طبی امداد پہنچا چکے ہیں۔

انہوں نے بھی بتایا کہ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں زیادہ تر پیٹ اور جلد کی بیماریوں والے مریض ہیں اور گزشتہ چند روز میں پانچ خواتین نے طبی کیمپوں میں بچوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تاحال وبا نہیں پھیلی۔

اسی بارے میں