آخری وقت اشاعت:  منگل 10 اگست 2010 ,‭ 14:27 GMT 19:27 PST

چھ ملین متاثرین کو خوراک کی اشد ضرورت: اقوام متحدہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تنظیم پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے ساٹھ لاکھ افراد کو خوراک فراہم کرنے پر توجہ دیں گے اور متاثرین کی مدد کرنے کے لیے اپیل بدھ کے روز نیو یارک میں جاری کی جائے گی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیویارک میں کہا کہ ’ہم فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے جلد ہی کروڑوں ڈالر امداد کی اپیل کریں گے۔ میں امداد دینے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیں‘۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق ساٹھ ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں اکتیس ہزار مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ ساڑھے سات لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی بارہ لاکھ ہے اور اس کی پانچ تحصیلیں ہیں۔

کلِک پاکستان میں سیلاب پر بی بی سی کی خصوصی نشریات

کلِک مالاکنڈ: زمینی راستہ بدستور منقطع

کلِک سندھ: سیلاب سے متاثرہ شہر غوثپور میں لوٹ مار

کلِک

کلِک پنجاب میں رحیم یار خان کے قصبے زیر آب

سندھ میں سیلابی ریلے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خیرپور، نوشہرو فیروز، حیدرآباد اور دادو اضلاع کے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو کے مقام پر اس وقت پانی کا اخراج دس لاکھ ستاسی ہزار، سکھر بیراج پر دس لاکھ دس ہزار اور کوٹڑی بیراج سے دس لاکھ نوے ہزار ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے’اوچا‘ کی ترجمان الزبیتھ بائرز نے کہا ’اس وقت ہماری پوری توجہ ساٹھ لاکھ متاثرین کو خوراک مہیا کرنے پر ہے جن کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔‘

بائرز نے کہا کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ متاثرین کی تعداد حکومتِ پاکستان نے دی تھی اور اس میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر متاثر ہونے والے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تعداد میں بے گھر ہونے والے اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بلوچستان میں پونے دو لاکھ لوگ متاثر ہوئے، گلگت بلتستان میں پونے آٹھ ہزار، خیبر پختونخوا میں سینتالیس لاکہ پچیس ہزار افراد، پنجاب میں اسّی لاکھ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس ہزار اور سندھ میں دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیو یارک میں بدھ کے روز اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر ایمرجنسی اپیل کا اعلان کریں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں اوچا کے دفتر سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کروز چالیس لاکھ متاثرین میں ساٹھ لاکھ بچے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت متاثرین کے لیے خیموں کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی بھی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں بدترین بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بلوچستان میں پونے دو لاکھ لوگ متاثر ہوئے، گلگت بلتستان میں پونے آٹھ ہزار، خیبر پختونخوا میں سینتالیس لاکہ پچیس ہزار افراد، پنجاب میں اسّی لاکھ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس ہزار اور سندھ میں دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب سے کُل دس ہزار چھ سو اسی گاؤں متاثر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

سندھ

بلوچستان سے ملحقہ سندھ کے سرحدی علاقوں سے سیلاب کے متاثرین نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرکے بلوچستان میں داخل ہونا شروع کردیا ہے۔ یہ متاثرین بلوچستان کے نصیر آباد اور جعفر آباد میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ سندھ کے ان متاثرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی نے بھی ان کی امداد نہیں کی ہے جبکہ حکومت بلوچستان کاموقف ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی بلاامتیاز مدد کی جارہی ہے۔

سیلابی ریلے آگے بڑہنے کے ساتھ ساتھ، خیرپور، نوشہرو فیروز، حیدرآباد اور دادو اضلاع کے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑہ رہا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو کے مقام پر اس وقت پانی کا اخراج دس لاکھ ستاسی ہزار، سکھر بیراج پر دس لاکھ دس ہزار اور کوٹڑی بیراج سے دس لاکھ نوے ہزار ہے۔

صوبائی ڈزاسٹر مئنجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جیکب آباد، کشمور، شکارپور، قمبر، شہداد کوٹ کو ریڈ الرٹ علاقے قرار دیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے لوگوں سے خشک راشن، دو دھ، بسکٹ، پینے کے پانی کی بوتلیں، صابن، دوائیں اور کمبل دینے کی اپیل کی ہے۔

سیلاب سے اب تک صوبے کے چودہ اضلاع میں دس لاکھ سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے اب تک صوبے کے چودہ اضلاع میں دس لاکھ سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق صوبہ سندھ میں گڈو بیراج سے بحیرۂ عرب تک بیس لاکھ تک کی آبادی کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ صالح فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ دریا میں دو شگاف پڑنے کے بعد متاثرین کی تعداد ان کے ابتدائی اندازوں سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’ کچے کے علاقے کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہر بھی متاثر ہوئے ہیں جیسے غوث پور کا شہر خالی کروایا گیا، جیکب آباد کے شہر ٹھل سے بھی انخلا ہورہا ہے، اس کے علاوہ کشمور، گھوٹکی اور خیرپور سے بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں‘۔

صوبہ سندھ کے وزیراعلٰی قائم علی شاہ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گڈو اور سکھر بیراج کے درمیانی علاقے سے سات لاکھ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے اور ان افراد کے لیے صوبے میں بیالیس امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک مکمل توجہ سکھر بیراج کو بچانے پر تھی تاہم اب جبکہ بڑی نہروں میں پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے سیلابی پانی میں چالیس ہزار کیوسک کی کمی ہوئی ہے، تو متاثرین کی امداد اور بحالی کے کام پر توجہ مرکوز کی جائے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے دس ارب روپے کا فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔

پنجاب

جنوبی پنجاب کا علاقہ مظفر گڑھ سیلابی ریلا گزرنے کے اعلان کے بعد اب خالی ہوگیا ہے اور اس وقت مظفر گڑھ شہر سنسان پڑا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ روز یہ منادی کرائی گئی تھی کہ ایک اور سیلابی ریلا شہر کے طرف بڑھا رہا ہے جس کے بعد علاقے کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں سے نقل مکانی کرگئی ۔

محکمہ موسمیات پنجاب کے اہلکار حضرت میر کے مطابق دریائے سندھ کی طرف سے ایک بڑا ریلا آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مظفر گڑھ کے علاقے سے گزرے گا۔

پنجاب کے محکمہ فلڈ ریلیف کے ڈائر یکٹر جنرل رضوان اللہ بیگ کے مطابق جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ کو خالی کرلیا گیا اور ستر فیصد سے زائد افراد علاقے سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔

مظفرگڑھ کے مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ مظفرگڑھ شہر اس وقت خالی پڑا ہے اور اب صرف وہ لوگ شہر کے اندر ہیں جو اپنے گھر اور سامان کی حفاظت کے لیے روکے ہوئے ہیں۔

فلڈ ریلیف کمشنر پنجاب رضوان اللہ بیگ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں سے اب پانی آہستہ آہستہ اتر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں تودے گرنے سے سوات کا زمینی رابطہ منقطع ہے تاہم صوبے کے جنوبی اضلاع کا رابطہ دس روز بعد پیر کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نئے سلسلے نے ان علاقوں کو ایک بار مرتبہ پھر اپنی لیپٹ میں لے لیا ہے۔ جب کہ ضلع چارسدہ میں چند دیہات ایسے ہیں جہاں تازہ بارشوں نے پہلے سے متاثرہ افراد کے مُشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

بلوچستان

تحصیل صحبت پور میں لوگ بلند مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں

بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو کے تین ہزار خاندانوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے جو بارشوں کے سیلابی ریلوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ضلع جعفر آباد کی تحصیل صحبت پور میں سیلابی پانی کے باعث نہروں میں شگاف پڑنے سے صحبت پور کے تاریخی قلعے میں آباد ہزاروں افراد کی زندگی کوخطرہ ہے۔

علاقے سے تعلق رکھنے والی بلوچستان اسمبلی کی خاتون رکن محترمہ غزالہ گولہ نے کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود قبائل اپنے آپ کو بچانے کے لیے پانی کارخ دوسرے قبائل کی طرف موڑنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے علاقے میں تصادم کابھی خطرہ ہے۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں پولیس نے کہا کہ پیر کو ملبے کے نیچے سے مزید دو لاشیں نکالی گئی ہیں۔ اس طرح بارشوں کی وجہ سے طغیانی اور تودے گرنے کے نتیجے میں ہلاک والوں کی تعداد بیالیس ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کوئی ایک درجن افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قائم ادارے سٹیٹ ڈیزاسڑ منیجمنٹ اتھارٹی یعنی ایس ڈی ایم اے کے اعلیٰ عہدیدار شاہد ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب میں ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار افراد پر مشتمل آٹھ ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بیشتر خاندان اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ چار سو سے زیادہ خاندان حکومت کی طرف سے سرکاری سکولوں میں قائم کیمپوں میں رہتے ہیں جب کہ بعض متاثرین کو خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے زیرے انتظام کشمیر میں حالیہ سیلاب میں ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار افراد پر مشتمل آٹھ ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

شاہد ملک

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودوں کے باعث چار ہزار سے زیادہ مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔ جب کہ ایک ہزار کے لگ بھگ دوکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ایس ڈی ایم اے کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے کے باعث اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم از کم باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نقصان اس سے زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ ان علاقوں سے اطلاعات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جن کا ملک کے دوسرے حصوں سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔

شاہد ملک کا کہنا ہے کہ وادی نیلم اور وادی جہلم کے بالائی حصے دس روز سے کٹے ہوئے ہیں اور وادی نیلم کے بلائی حصے کو جانے والی سڑک پر بیس پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔