دیامیر: پینتیس ہلاک، پچاس زخمی

آسمانی بجلی
Image caption بجلی گرنے سےمواصلات نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آسمانی بجلی گرنے اور طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم پینتیس افراد ہلاک اور بارہ کے قریب لاپتہ ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دیامیر ضلع کے پولیس سربراہ شیر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب سیلاب کے نتیجے میں گیس بالا گاؤں میں ابتدائی اندازے کے مطابق لگ بھگ ایک سو مکانات تباہ ہوگئے یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس گاؤں کے سنتالیس افراد سیلاب میں بہہ گئے یا وہ ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی شام تک پینتیس افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ بارہ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مقامی لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے جن میں ایک درجن لوگ شدید زخمی ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چلاس اور گلگت کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے وہ پل بھی بہہ گیا ہے جو گیس بالا سمیت تین وادیوں کو شاہراہ قراقرم سے ملاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں کوئی پچیس ہزار آبادی پر مشتمل ان تین وادیوں کا ملک کے دوسرے حصوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

دیامیر کے اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن زاہد نے بتایا کہ متاثرین کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے بی بی سی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ کوئی دو سو دیہات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈھائی ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی بہتر ہزار کنال زرعی اراضی، ساٹھ ہزار سے زیادہ پھل دار درخت، چھ سو کلومیٹر پر مشتمل سڑکیں، ساٹھ سے زیادہ پل اور کوئی ساڑھے تین سو واٹر چینیلز تباہ ہوگئے ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے متاثرین کی امداد اور بحالی کے علاوہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کے لیے حکومت پاکستان سے دس ارب روپے مانگے ہیں۔

شاہراہ قراقرم بھی تودے گرنے اور پل ٹوٹنے کے باعث گزشتہ بارہ روز سے بند ہے اور اس کی وجہ سے گلگت بلتستان کا ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ زمینی رابط کٹا ہوا ہے۔

اسی بارے میں