آخری وقت اشاعت:  جمعرات 12 اگست 2010 ,‭ 08:57 GMT 13:57 PST

نئے ریلے کی وارننگ، متاثرین امداد کے منتظر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان میں گزشتہ اسّی برس کے دوران آنے والے سب سے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد میں امداد کی فراہمی میں سست روی کے باعث بےچینی اور اشتعال پھیل رہا ہے جبکہ اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہوگا جس کی وجہ سے میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور لیہ کے اضلاع کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

ُادھر صدر آصف علی زرداری نے ملک میں سیلاب کے بعد پہلی بار سکھر کا دورہ کیا ہے۔

کلِک فوری امداد نہ ملی تو ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں: اقوام متحدہ

کلِک شہر میں صرف افواہوں کا سیلاب: سیلاب ڈائری

کلِک چھ ملین متاثرین کو خوراک کی اشد ضرورت

کلِک بوند بوند کو ترستے متاثرین

متاثرین کی تکالیف

دوسری جانب سیلاب متاثرین میں امداد کی فراہمی کا عمل سست روی سے جاری ہے اور یہ سست روی متاثرین میں اشتعال پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے۔

کلِک وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے کہا کہ پاکستان میں سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کی وجہ سے سیلاب زدگان کی امداد میں رکاوٹ اور مشکل پیدا ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک تو حکومتی امداد بہت کم ہے اور وہ بھی سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ متاثرین تک پہنچانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب کے سیاستدان اور اسمبلی کے رکن محسن لغاری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد اب بھی کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر بارش ہوتی ہے تو وہ ان کے لیے تکلیف کا باعث ہے اور اگر سورج چمکے تو وہ بھی‘۔

لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی متاثرہ علاقے سے نکل رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ ’ ہر طرف پانی ہی پانی ہونے کی وجہ سے نمی کا تناسب اتنا بڑھ گیا ہے کہ سانس لینا دشوار ہے۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، مویشی بہہ گئے ہیں، سڑکوں سمیت تمام انفراسٹرکچر ختم ہوگیا ہے‘۔

محسن لغاری نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد کی آمد بہت آہستہ ہے۔ ’ہم ایک غریب ملک ہیں اور ہمارے وسائل نہایت محدود ہیں، ہم اس قسم کی آفت سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ امداد فراہم کرنے والوں کو انتہائی بےصبر متاثرین کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ’جب آپ ایک ایسی جگہ راشن کے پانچ سو تھیلے لے کر جائیں گے جہاں پانچ ہزار لوگ امداد کے منتظر ہوں تو افراتفری کا سماں تو ہوگا۔ لوگ آپ پر جھپٹتے ہیں کیونکہ ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ان کے بچے اور بزرگ مائیں بھوکی ہیں اور ان کی بے صبری جائز ہے، میں انہیں قصور وار نہیں ٹھہراتا‘۔

نئے سیلابی ریلے کی وراننگ

جمعرات کو پاکستان فلڈ کمیشن کے چیف انجینئر عالمگیر خان کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہوگا جس کی وجہ سے میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور لیہ کے اضلاع کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے صورت حال میں بہتری نہیں ہو گی بلکہ نئے ریلے کی وجہ سے یہ دباؤ مزید طول پکڑ جائے گا

عالمگیر خان

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگلے تین چار دنوں میں جب یہ ریلہ گڈو اور سکھر بیراج پہنچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گڈو بیراج پر اس ریلے کی وجہ سے پانی کی سطح دس لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے جہاں اس وقت نو لاکھ ستانوے ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔

عالمگیر خان کے مطابق اس وقت سکھر بیراج پر پانی کی سطح گیارہ لاکھ تیرہ ہزار کیوسک ہے اور پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ’گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے صورت حال میں بہتری نہیں ہو گی بلکہ نئے ریلے کی وجہ سے یہ دباؤ مزید طول پکڑ جائے گا۔‘

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے دریائے چناب سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے اور گوجرانوالہ ڈویژن کے چار اضلاع کو خطرے میں قرار دیا ہے۔

جنوبی پنجاب میں دریائے سندھ کا پانی تباہی مچا رہا ہے۔آٹھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا ایک بار ضلع مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کے وسیع علاقوں کو زیر آب لے آیا ہے۔

ُادھر دریائے سندھ کے دوسرے ریلے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ ڈیرہ غازی خان،راجن پور اور رحیم یار خان کی متعدد بستیاں خالی کرالی گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کی وارننگ کے مطابق دریائےچناب میں دو سے ڈھائی لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا جمعہ کی دوپہر دو بجے مرالہ کےمقام پر اور رات نو بجے خانکی پہنچے گا اور سنیچر کی دوپہر تک اس کا زور رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ضلع گجرات،گوجرانوالہ،حافظ آباد اور منڈی بہاءالدین کے زیریں علاقوں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کےمطابق متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کریں تاکہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو۔ادھر جنوبی پنجاب میں دریائے سندھ کا پانی تباہی مچا رہا ہے۔آٹھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا ایک بار ضلع مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کے وسیع علاقوں کو زیر آب لے آیا ہے۔

متعدد بستیوں کو شہریوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ان بستیوں میں جہاں پانی اترنے لگا تھا وہاں ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔بستی شاہ جمال اور شاہ گڑھ میں جہاں لوگوں نے ٹیلوں پر پناہ لی تھی وہ ٹیلے بھی زیرآب آگئے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پھنس چکی ہے۔

ان علاقوں میں امدادی کام جاری ہے لیکن متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دی جانے والی امداد ان کے حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لا رہی۔

صدر زرداری پہلی بار سیلاب سے متاثرہ علاقے میں

صدر آصف علی زرداری نے صوبہ سندھ کے شہر سکھر کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں سیلاب کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد صدر زرداری نے ایک سرکاری کالج میں قائم امدادی کیمپ کا دورہ کیا۔

واضح رہے کہ صدر زرداری ایک ایسے وقت میں پہلی بار سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پہنچے ہیں جب وہ حالیہ دورہ برطانیہ کے حوالے سے حزب مخالف کی شدید تنقید کی ذر میں ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب متاثرین کی مدد میں سستی کی وجہ سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صدر کے ترجمان کے مطابق صدر نے متاثرین سے ان کے مسائل سنے اور ان کی مشکلات جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق صدر نے متاثرین سے کہا کہ ان کے تباہ شدہ گھر بھی جلد از جلد تمعیر کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کروائی گی۔

سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اپیل

بدھ کو اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثر افراد کی امداد کے لیے پینتالیس کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی عالمی اپیل جاری کر دی ہے۔

جب آپ ایک ایسی جگہ راشن کے پانچ سو تھیلے لے کر جائیں گے جہاں پانچ ہزار لوگ امداد کے منتظر ہوں تو افراتفری کا سماں تو ہوگا۔ لوگ آپ پر جھپٹتے ہیں کیونکہ ان کی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ان کے بچے اور بزرگ مائیں بھوکی ہیں اور ان کی بے صبری جائز ہے، میں انہیں قصور وار نہیں ٹھہراتا۔

محسن لغاری

نیویارک میں بدھ کو اپیل کا اعلان کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں کے رابطہ کار دفتر ’اوچا‘ کے سربراہ جان ہومز نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں چودہ ملین افراد متاثر ہوئے ہیں اور یہ حالیہ برسوں میں کسی بھی ملک کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

نہوں نے مزید کہا کہ اس امداد سے فوری ضرورت کی اشیاء کی فراہمی کو نوے روز تک یقینی بنایا جائے گا جن میں کھانا، پینے کا صاف پانی، خیمے اور ادوایات شامل ہوں گی۔ جان ہومز کا کہنا تھا کہ جیسے مزید معلومات ملیں گی ہنگامی امداد کے اس منصوبے پر تیس روز کے بعد نظر ثانی کی جائے گی۔

پاکستان میں سیلاب کے متاثرین کے لیے اب تک تقریباً نو کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے قریب غیر ملکی امداد ملی ہے۔ نو اگست تک ملنے والی اس غیر ملکی امداد میں ایک کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی شامل ہے۔

سات سو امریکی فوجی امدادی سرگرمیوں میں مصروف

پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے پاکستان نے سات سو امریکی میرینز کو ویزے جاری کیے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ امریکی فوجی شنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکال رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی سیلاب متاثرین کی امداد جاری رکھے گا۔

سیلاب اور متاثرین کی صورتحال

سندھ

سندھ میں حکومت نے سیلاب سے متاثرہ پندرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا ہے

پاکستان میں اس وقت سیلاب کا بڑا ریلا دریائے سندھ میں موجود ہے جو حکام کے مطابق اب سکھر بیراج سے کوٹری بیراج کی جانب بڑھ رہا ہے۔

کوٹری میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ کوٹری میں دریائے سندھ کے حفاظتی بند کے اندر تین ہزار کے قریب افراد آباد ہیں لیکن ان لوگوں نے یہاں سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع حیدر آباد اور ضلع ٹھٹہ کے نشیبی اور مضافاتی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔ سندھ میں سیلابی ریلے کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خیرپور، نوشہرو فیروز، حیدرآباد اور دادو اضلاع کے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

دریں اثنا صوبہ سندھ میں حکومت نے سیلاب سے متاثرہ پندرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد سکھر بھی پہنچی ہے

سندھ میں سیلاب سے اب تک سب سے زیادہ کشمور اور جیکب آباد متاثرہوئے ہیں۔ جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کی پوری آبادی خالی ہو گئی ہے اور متاثرین جیکب آباد بلوچستان ہائی وے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق کچے کے علاقے سے لوگوں کا انخلا ممکن نہیں ہو سکا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔ منگل کو صوبائی وزرا نے حکام سے کہا تھا کہ وہ کچے سے لوگوں کے جلد از جلد انخلا کو یقینی بنائیں ورنہ بہت تاخیر ہو جائے گی۔

منگل کو ڈی سی او سکھر انعام اللہ دھاریجو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نقصان کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوگا جب سیلابی ریلا یہاں سے گزر جائے گا لیکن میں محدود اندازے سے بتا سکتا ہوں کہ کچے کا علاقہ مکمل ڈوب گیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے سکھر میں آٹھ سے دس دیہات کی پینتیس سے چالیس ہزار کی آبادی براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔۔اس سے پہلے حکام کے مطابق صوبہ سندھ میں گڈو بیراج سے بحیرۂ عرب تک بیس لاکھ تک کی آبادی کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پنجاب

مظفرگڑھ کے اردگرد کی بستیوں کو دوسرا ریلا زیر آب کرگیا ہے

صوبہ پنجاب کے فلڈ ریلیف کے ڈائریکٹر جنرل رضوان بیگ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کا شہر مظفر گڑھ خطرے کی زد میں ہے کیونکہ تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بڑھی ہے۔

ان کے بقول دریائے سندھ سے پانی کا جو بڑا ریلا منگل اور بدھ کی درمیانی شب مظفر گڑھ سے گزرا ہے اس سے مظفر گڑھ محفوظ رہا ہے تاہم اردگرد کی بستیوں کو یہ پانی زیر آب کرگیا ہے۔

مظفر گڑھ شہر کو پہلے ہی سیلاب کے خطرے کے پیش نظر خالی کرا لیا گیا تھا اور ستر فیصد آبادی شہر چھوڑ چکی ہے۔

ضلع میں واقع پارکو آئل ریفانری اور دو نجی پاور سٹیشن سیلابی پانی کی وجہ سے بند ہیں

فراست اقبال

مظفرگڑھ میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ ڈی سی او مظفر گڑھ کے مطابق اس وقت ضلع کا ساٹھ فیصد رقبہ زیر آب ہے جب کہ شہر پانچ لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

ڈی سی اور مظفر گڑھ فراست اقبال نے بتایا کہ شہر کو اب بھی سیلاب سے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ ضلع میں واقع پارکو آئل ریفانری اور دو نجی پاور سٹیشن سیلابی پانی کی وجہ سے بند ہیں۔

دوسری جانب مظفر گڑھ شہر خالی ہونے کی وجہ سے یہاں پرقائم کیے ریلیف کمیپوں میں رہنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور امدادی سرگرمیاں بھی اسی وجہ سے متاثر ہورہی ہیں۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سیلاب سے صوبہ پنجاب میں اسّی لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں سیلاب نے لوگوں کے پینے کے پانی کے نظام کو بھی تباہ کر دیا ہے اور متاثرین میں بھوک کے ساتھ ساتھ پیاس ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔سیلابی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیٹ کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخواہ

متاثرین میں بھوک کے ساتھ ساتھ پیاس ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں اور سیلاب کو آئے ہوئے دو ہفتے گزرگئے ہیں لیکن اس کے باوجود متاثر ہونے والے اکثر اضلاع تک کلِک زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے جس کی وجہ سے لاکھوں متاثرین کے مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخواہ میں آٹھ لاکھ پچاسی ہزار افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا جبکہ مزید چھ لاکھ ساٹھ ہزار افراد ایسے ہیں جن تک تاحال رسائی نہیں ہو سکی ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے تین اضلاع سوات، دیر بالا اور دیر پایاں میں دریائے پنجکوڑہ اور دریائے سوات پر قائم تمام اہم پل سیلابی پانی میں بہہ جانے سے تاحال ان علاقوں تک زمینی راستوں سے آمد و رفت معطل ہے۔

بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پنجاب میں اسّی لاکھ، خیبر پختونخوا میں سینتالیس لاکھ پچیس ہزار، سندھ میں دس لاکھ، بلوچستان میں پونے دو لاکھ،گلگت بلتستان میں پونے آٹھ ہزار جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اوچا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمٹ اتھارٹی کے ایک سنئیر اہلکار عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو موسم صاف ہونے کے بعد ضلع شانگلہ میں لاکھوں متاثرین کے لیے جانوروں کے ذریعے خوراک اور دیگر اشیاء پہنچانے کاکام شروع کر دیاگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق دیر اور چترال کے لیے بھی زمینی راستے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں جہاں لاکھوں کی آبادی کے لیے خوراک اور خیموں کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ بحرین سے کالام تک سڑک کی بحالی کا کام شروع کیا گیا ہے جس کی مرمت پر مزید چار دن لگ سکتے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں متاثرین کے لیے سرکاری عمارتوں میں چوبیس؛بنوں میں بیس جبکہ لکی مروت میں چار عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں اور اب تک چار ہزار خاندانوں کو خوراک پہنچائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی لاکھوں کی تعداد میں سیلاب سے متاثرہ لوگ موجود ہیں لیکن ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ہر ایک متاثرہ خاندان کو خوراک پہنچا سکیں۔

بلوچستان

بلوچستان میں سبی اور کوہلو کے اضلاع کے تین ہزار خاندانوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے جو بارشوں کے سیلابی ریلوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ضلع جعفر آباد کی تحصیل صحبت پور میں سیلابی پانی کے باعث نہروں میں شگاف پڑنے سے صحبت پور کے تاریخی قلعے میں آباد ہزاروں افراد کی زندگی کوخطرہ ہے۔

صوبہ بلوچستان سے ملحقہ سندھ کے سرحدی علاقوں سے سیلاب کے متاثرین نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرکے بلوچستان میں داخل ہونا شروع کردیا ہے۔ یہ متاثرین بلوچستان کے نصیر آباد اور جعفر آباد میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ سندھ کے ان متاثرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی نے بھی ان کی امداد نہیں کی ہے جبکہ حکومت بلوچستان کاموقف ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی بلاامتیاز مدد کی جارہی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔