’کچھ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر تیار نہیں‘

سندھ
Image caption کچھ لوگ انتظامیہ اور ان کی انتباہ پر یقین کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں اندازہ ہے کہ پانی کب اور کتنا آئے گا۔

سات سالہ سونو ملاح اور ان کے ساتھی عاشق آنے والے خطرے سے بے نیاز ہیں اور معمول کے مطابق اپنی گلی میں کیھلتے ہیں۔

یہ دونوں بچے تین ہزار کی اس آبادی میں رہتے ہیں جو کوٹری شہر میں دریا کے حفاظتی بند کے اندر ہے اور جس کے لوگوں نے علاقہ چھوڑنے سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔

سونو کا کہنا ہے کہ ابھی پانی بہت دور ہے یہاں نہیں پہنچے گا جب کہ عاشق بھی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ ڈرتے ہیں۔

کوٹری بیراج پر اس وقت دو لاکھ کیوسک کے قریب پانی موجود ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں پندرہ اور سولہ اگست کو سپر فلڈ کی صورت حال ہوگی یعنی نو لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی موجود ہوگا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انیس سو ستر کی دہائی میں جو سیلاب آیا تھا تو اس وقت پانی حفاظتی بندوں کے آخری حصے تک پہنچا تھا مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باجود وہ گھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

اشرف علی ملاح یہاں تیس سال رہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ مزدوری کرکے گزر بسر کرتے ہیں اگر وہ گھر چھوڑ کر جائیں تو ان کے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

ان کی بیوی حمیرا ملاح جو دس بچوں کی ماں ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں پلاٹ فراہم کرے تو وہ وہاں جاکر آباد ہوجائیں بصورت دیگر وہ یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔

جب ان سے ملاقات ہوئی اس وقت پانی ان کے گھروں سے ٹکرا رہا تھا، ان خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹی وی پر لوگوں کو سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے دیکھا ہے انہیں ڈر تو ہے مگر دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایک کمرے اور ناہموار آنگن پر مشتمل اس گھر کے باسی رات گھر کے باہر گزارتے ہیں اور صبح کو اندر آجاتے ہیں، ان کے مطابق رات کو اچانک پانی آجائے اس کا اندازہ نہیں ہوتا اس لیے وہ رات کو باہر رہتے ہیں۔

کوٹری شہر دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر ایک بڑی آبادی ہے، جام شورو سے مانجھند تک دریائے سندھ پر کوئی حفاظتی بند نہیں اور پانی ایک کھلے علاقے میں پھیل جاتا ہے۔ اسی علاقے میں سن، مانجھند اور دیگر حساس علاقے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چورانوے کے قریب گاؤں سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں، جس میں پچاس ہزار کے قریب آبادی موجود ہے۔

ڈی سی او جام شورو سمیع صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ پچاس فیصد سے زائد آبادی کا انخلا کیا گیا ہے۔ جو غریب لوگ ہیں وہ کیمپوں میں ہیں جب کہ اکثر اپنے رشتے داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔

’بہت سارے لوگ بضد ہیں کہ پانی اتنا نہیں ہے وہ انیس سو ستر اور انیس بیانوے کے سیلاب کو دیکھ چکے ہیں ان کا ذاتی اندازہ ہے کہ اتنا زیادہ پانی نہیں آئے گا ان کے اپنے پیمانے ہیں۔ جب وہ خطرات محسوس کرتے ہیں محفوظ جگہ پہنچ جاتے ہیں‘۔

ڈی سی او کے کہنا ہے کہ آب پاشی ماہرین کا خیال ہے کہ کوٹری شہر کو خطرہ نہیں مگر اس کے باجود وہاں مٹی ڈالی جا رہی ہے۔

کوٹری شہر میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کچھ دیگر جماعتوں کی کیمپوں پر عطیات کے اعلانات کیے جا رہے تھے لوگوں میں کوئی پریشانی نہیں نظر آرہی تھی۔

کیمپوں میں لوگوں کی سہولیات اور خوراک کی عدم دستیابی کی شکایت ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیے گئے ہیں۔

کوٹری سے رکن صوبائی اسمبلی غنی تالپور کا کہنا ہے حکومت لوگوں کی بھرپور مدد کر رہی ہے، بقول ان کے کچے میں لوگوں کو رہنا چاہیے مگر پکے مکانات نہیں تعمیر کرنے چاہیں اب جب اب انھیں وہاں سے منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ ناراض ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں