ججوں کی جلد تعیناتی ضروری

بلوچستان ہائی کورٹ

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے کوئی طریقۂ کار نہ نکالا گیا تو مذکورہ ہائی کورٹ پانچ ستمبر کو ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر پانچ ججوں میں سے چار ایڈہاک ججوں کی مدت ملازمت پانچ ستمبر کو ختم ہو رہی ہے اور وہاں پر ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارہویں ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے آغاز میں ہی یہ معاملہ اُٹھایا گیا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جب پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے گا تو اس وقت حزب اختلاف میں صرف ایک رکن ہے اور پھر ایسی صورت حال میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائےگا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بلوچستان کے معاملے پر غور کر رہی ہے اور حوالے سے جلد ہی کوئی حل نکال لیا جائےگا۔

ان درخواستوں میں صوبہ پنجاب کی حکومت کے وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں یہ درج ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے تشکیل میں اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیج دیا جائے۔

حکومتی وکیل نصراللہ وڑائچ نے اٹھاوہویں ترمیم کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کی تعیناتی کی شق آئین کی کسی بھی شق سے متصادم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے اکتیس جولائی کے فیصلے میں خود تسلیم کیا ہے کہ ججوں کی تعیناتی ایک انتظامی معاملہ ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی مشاورت لازمی ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے کسی بھی فیصلے میں ججوں کی تعیناتی کے پُرانے طریقۂ کار کو غلط قرار نہیں دیا۔

نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی ایک انتظامی معاملہ ہے اور اس ضمن میں پارلیمانی کمیٹی انتظامیہ کی معاونت کے لیے بنائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ قومی اسمبلی بھی انتظامیہ کا حصہ ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججوں کی تعیناتی میں پارلیمانی کمیٹی انتظامیہ کا کردار ادا کرے گی تو پھر عدلیہ کا انتظامیہ سے علیحدگی کا اصول کہاں جائے گا۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو جو اختیارات دیے گئے ہیں اُس سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے رجحان میں کمی ہوگی۔

واضح رہے کہ اس شق میں سیاسی جماعتوں میں انتخابات کو ختم کردیا گیا ہے اس کے علاوہ اس میں کہا گیا ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی طرف سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر جماعت کا سربراہ اُس شخص کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرسکتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس غلام ربانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں فرد واحد کو اختیار دینا آئین کے آرٹیکل اُنیس کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مورثی سیاست کو فروغ حاصل ہوگا۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں بھی مورثی سیاست سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت سولہ اگست کو دوبارہ شروع ہوگی۔

اسی بارے میں