آخری وقت اشاعت:  جمعـء 13 اگست 2010 ,‭ 15:07 GMT 20:07 PST

عبدالواحد نے کیا دیکھا۔۔۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(یہ ویڈیو ہمارے ایک قاری عبدالواحد نےخیبر پختونخواہ کے ضلع لوئر دیر کے گاؤں خال سے بھیجی ہے)

صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے عبدالواحد آئی ٹی کے ماہر ہیں اور اسلام آباد میں کام کرتے ہیں۔ جب سیلاب شروع ہوا تو وہ اپنے گاؤں خال میں تھے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح ان کے گاؤں میں سیلاب سے انسانی جانوں کو نقصان پہنچا۔

’جولائی کے آخر میں جب سیلاب شروع ہوا تو دریا کے کنارے ایک گھر اس میں بہہ گیا۔ لکڑی سے بنے اس گھر میں ایک غریب خاندان رہتا تھا۔

شام کے وقت دریا کا بند ٹوٹا اور اس گھر کے سات افراد پانی میں پھنس گئے۔ وہ ساری رات پانی میں گھرے رہے جبکہ گاؤں کے لوگ انہیں بچاؤ کی ترغیب دینے کی کوشش کرتے رہے۔

عبدالواحد

عبدالواحد کا اپنے خاندان والوں سے بھی رابطہ منقطع ہے

ہم نے حکام سے رابطہ کر کے مدد مانگی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ہمارے علاقے میں مدد کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں ہے، نہ ہیلی کاپٹر ہیں اور نہ ایسے افراد جو مدد کر سکیں۔

اگلی صبح پانی میں گھرے چار لوگ، ایک باپ اس کے دو بچے اور ایک ہمسایہ دریا کو پار کرنے کی کوشش میں پانی میں بہہ گئے۔ ان کے خاندان والے ابھی تک ان کی لاشوں کی تلاش میں ہیں۔

پانی میں گھرے باقی لوگوں کو ہم نے کسی طرح محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔

میں اب کام کے سلسلے میں واپس اسلام آباد آگیا ہوں لیکن میں خال میں اپنے خاندان والوں سے رابطہ نہیں کر سکتا کیوں کہ وہاں اب تک بجلی بحال نہیں ہوئی ہے، نہ ہی رابطے کا کوئی ذریعہ ہے اور نہ ہی میڈیا۔

میں یہ ویڈیو بھیج رہا ہوں تاکہ دنیا کو دکھا سکوں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔