آخری وقت اشاعت:  جمعـء 13 اگست 2010 ,‭ 13:38 GMT 18:38 PST

سیلاب: ڈیڑھ کروڑ سے زائد متاثر، جیکب آباد شہر سے انخلا

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان میں سیلاب کے باعث کئی علاقوں سے زمینی رابطے مسلسل منقطع ہیں، حکام کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ایک اور سیلابی ریلے کے بارے میں بتایا ہے۔ جیکب آباد شہر سمیت کئی اور علاقوں سے انخلا کرایا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ اسی برس کے دوران آنے والے بدترین سیلاب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب اور بارشوں سے اکثر اضلاع کے زمینی رابطے بدستور منقطع ہونے کی وجہ سے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں اپر سوات، اپر دیر، دیر بالاں اور چترال کا زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے بیس لاکھ کے قریب سیلاب متاثرین کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کلِک گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کی تفصیل

کلِک سیلاب ڈائری: قسط دوئم

سندھ کی تازہ ترین صورتحال

صوبہ سندھ کے ضلع جیک آباد کے نزدیک سے گزرنے والی نور واہ( نہر) میں تین جگہ شگاف پڑنے سے انتظامیہ نے شہر کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

سندھ حکومت کے مشیر جمیل سومرو نے کہا کہ پانی ابھی شہر میں داخل نہیں ہوا ہے کہ لیکن اس کے آس پاس کے علاقوں سے لوگوں کو فوری طور پر نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خاص طور پر بچوں اور خواتین کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدیات کی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ انخلا کے اعلان کے بعد شہر میں افراتفری کی سی کیفیت ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

سندھ کے چیف سکرٹری فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جیکب آباد سے تین لاکھ لوگوں کا انخلا کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ٹرین کی شٹل سروس شروع کی گئی ہے جو لوگوں کو سبی بلوچستان اور روہڑی منتقل کر رہی ہے۔

بلوچستان کی صورتِ حال

بلوچستان سے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق حکومت بلوچستان کے مطابق صوبے میں سیلاب سے متاثرہ بارہ اضلاع میں دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور انھیں خوراک، ادویات اور خیمے فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ سیلاب سے مالی طور پر کتنا نقصان ہوا ہے۔

کلِک چھیالیس کروڈ ڈالر امداد کی اپیل

دریں اثنا جمعہ کو پاکستان فلڈ کمیشن کے چیف انجینئر عالمگیر خان کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب سے میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور لیہ کے اضلاع کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگلے تین چار دنوں میں جب یہ ریلہ گڈو اور سکھر بیراج پہنچے گا تو اس کی وجہ سے گڈو بیراج پر پانی کی سطح ایک مرتبہ پھر دس لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے جہاں اس وقت نو لاکھ ستانوے ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پختون خواہ کی صورتحال

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بدھ کو ہیلی کاپٹروں اور جانوروں کے ذریعے غذائی اشیا پہنچانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ اب خراب موسم اور بارشوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔

قومی آفات کے صوبائی ادارے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پچاس سے زائد پل بری طرح متاثر ہوئے ہیں یا سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی، غدائی اشیا اور ادویات کی قلت ہے۔ صوبے میں تقریباً دس لاکھ لوگ بے گھر اور ایک لاکھ باؤن ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

محکمۂ موسمیات گڈو اور سکھر بیراج پر سیلابی پانی کی سطح کی صورتحال خطرناک اور غیر معمولی ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کا اخراج سات لاکھ پچہتر ہزار کیوسک ہے جب کہ چشمہ پر تقریباً سات لاکھ کیوسک ہے۔

کلِک تباہی کا شکار لوگ کیا کہتے ہیں

تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ضلع مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کے وسیع علاقوں کو زیر آب لے آیا ہے۔ دریائے سندھ میں دوسرے ریلے کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کی متعدد بستیاں خالی کرا لی گئی ہیں۔ جن بستیوں میں پانی اترنے لگا تھا وہاں ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔

مظفرگڑھ میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق ڈی سی او مظفرگڑھ فراست اقبال کا کہنا ہے کہ سیلاب کا خطرہ ابھی تک ٹلا نہیں ہے اور مظفر گڑھ شہر کے لیے آنے والے چوبیس گھنٹے اہم ہیں۔

ادھر کوٹری میں دریائے سندھ پر واقع آخری بیراج میں سیلاب کا بڑا ریلا پیر کو پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع حیدر آباد اور ضلع ٹھٹہ کے نشیبی اور مضافاتی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

کلِک لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے کو تیار نہیں

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سکھر بیراج سے چلنے والا پانی کا بڑا ریلا کوٹری بیراج کی جانب رواں دواں ہے، جس کے باعث دادو اور کوٹری کے کئی دیہات زیرِ آب آ ْگئے ہیں۔

سندھ میں سیلاب سے اب تک سب سے زیادہ کشمور اور جیکب آباد کے اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ جیکب آباد کی تحصیل ٹھل سے انخلا ہو چکا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔