لیّہ میں ایک شام

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی تیسری کڑی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نو اگست، ساڑھے سات بجے شام

،تصویر کا کیپشن

’لئیہ سے آگے کے حالات نہ جانے کیسے ہوں۔۔۔‘

حالانکہ آج صبح سے اب تک سوائے پیٹر کشتی میں بیٹھنے اور دریائے سندھ کے آرپار جانے کے کچھ نہیں کیا۔پھر بھی نمی، کشتی کے انجن کے شور اور راستے بھر پانی کی حکمرانی کے مناظر نے جسم اور ذہن کو شل کردیا ہے۔سوچتا ہوں جن چار پانچ لوگوں سے کچھ دیر میں ملنا ہے وہ ملاقات کل صبح تک ٹال دوں مگر ایسا نہیں کرسکتا۔ صبح لئیہ چھوڑنا ہے اور آگے کے حالات نہ جانے کیسے ہوں۔

میں ایک گھر کے باہر گلی میں بچھی کرسیوں پر چار پانچ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوں۔ایک مقامی سرکاری افسر ہے۔ایک سابق سیاستداں۔ ایک مسلم لیگ ق سے ہے۔ایک پیپلز پارٹی کا متحرک کارکن ہے۔ ایک غیرجانبدار مبصر ہے اور ایک ان میں سے کسی کا دوست ہے۔

چھوٹے شہروں میں یہ بڑی خوبی ہوتی ہے کہ سیاسی و سرکاری کاموں سے فراغت اور نظریاتی فرق کے باوجود شام کو یہ تمیز مٹ جاتی ہے اور سب ایک دوسرے سے کھل کر ہنسی مذاق اور سنجیدہ مباحثہ کرکے دن بھر کی تھکن کا بدلہ لے لیتے ہیں۔ایسی بیٹھکیں بڑے شہروں میں عنقا ہوتی جا رہی ہیں۔

بہرحال دو گھنٹے سے زائد کی اس نشست میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔جیسے یہی کہ اس ملک میں محکمہ موسمیات اور فلڈ کمیشن ہوتے ہوئے بھی لئیہ کی انتظامیہ کو سیلاب کی آمد اور ہنگامی تیاریوں کے لیے پہلی وارننگ صرف تین دن پہلے یعنی ستائیس جولائی کو ملی۔انہی تین دنوں میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شہر کے شمالی حصے کی جانب لشٹم پشٹم تین میل طویل ایک بند بنایا۔ لئیہ اگرچہ دریائی شہر ہے۔ لیکن انتظامیہ کے پاس کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے تین کشتیاں ہیں۔جبکہ پچاس کے لگ بھگ کشتیاں نجی ملکیت میں رہتی ہیں۔

جب یکم اگست کو سیلاب نے دریائی کنارے توڑ کر شہر کی جانب بڑھنا شروع کیا تو لاکھوں لوگوں کے پاس سوائے اسکے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود کو اور مال مویشیوں کو بچانے کے لیے اپنا ہی دماغ لڑائیں اور یہ سوچیں کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ تین سرکاری اور پچاس کے لگ بھگ پرائیویٹ کشتیاں ایک حد تک ہی مددگار ثابت ہوسکتی تھیں۔گو سیلاب آنے کے تین چار روز بعد فوج کی بھی آٹھ کشتیاں ریسکیو کے کام میں جٹا دی گئیں۔ لیکن انہیں آرڈر تھا کہ صرف لوگوں کو بٹھائیں۔جانوروں کو انکے حال پر چھوڑ دیں۔حتیٰ کہ جس نے کشتی میں بیٹھنے سے پہلے ایک مرغی بھی گود میں لے لی اسے بھی یہ چوائس دی گئی کہ یا تو مرغی چھوڑ دو ورنہ اترجاؤ۔

سِول انتظامیہ کا دعوی ہے کہ اس کی دسترس میں جو کچھ تھا کیا گیا۔ فوج نے اپنے طور پر مدد کی اور با اثر مقامی سیاستدانوں نے اپنے حلقے کے دیہاتوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے خاصا تعاون بھی کیا لیکن ہر ادارہ اور شخص باہمی ربط کے بغیر اپنے اپنے طریقے اور دماغ کے ساتھ کام کرتا رہا۔ یہ جانے بغیر کہ اس طرح کی آفات سے صرف اجتماعی حکمتِ عملی کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔چنانچہ کام سے زیادہ ’سب سے پہلے میں نے یہ کیا‘۔’ہمارا ادارہ پہلے پہنچا‘ اور ’ہم تو پہلے ہی سے کہہ رہے تھے‘ جیسے فقروں پر مبنی مقابلے بازی نے فوری نوعیت کی امدادی کارروائی کی اجتماعی روح کو اور مجروح کیا۔

اس محفل میں ایک صاحب نے یہ تجزیہ بھی کیا کہ کرائسِس مینجمنٹ اور قدرتی آفات سے نمٹنا ایک سائنسی کام ہے لیکن ہم لوگ قدرتی آفات سے بھی ایسے جذباتی انداز میں نمٹنے کے عادی ہیں جیسے سیلاب نہ ہو ہمارا کوئی ذاتی یا سیاسی مخالف ہو۔۔۔

مجھے بتایا گیا کہ انتظامی عدم دلچسپی کی یہ صورت ہے کہ لئیہ میں بندوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ایگزیکٹیو انجینیئر کا دفتر تونسہ میں ہے جبکہ تونسہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر ہے اور لئیہ بائیں کنارے پر۔

،تصویر کا کیپشن

دن بدن حالت خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔

سیلاب سے بچاؤ اور حفاظتی بندوں کی دیکھ بھال اور آبپاشی سے متعلق نظم و نسق کی ذزمہ دار صوبائی حکومت ہوتی ہے۔صوبہ پنجاب جس کی آبادی آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے، جہاں پانچ بڑے دریا اور بے شمار قدرتی ندی نالے ہیں اور جہاں پچھلے سو برس میں متعدد تباہ کن دریائی سیلابوں کی باقاعدہ تاریخ ہے، وہاں حالت یہ ہے کہ رواں مالی سال کے صوبائی بجٹ میں سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات کی مد میں صرف دس کروڑ سینتیس لاکھ روپے مختص کیے گئے اور یہ پیسہ بھی سیلاب سے بچاؤ کی دو نئی اور تین پرانی سکیموں کے لیے مختص ہوا۔ی ہ رقم گذشتہ مالی سال میں مختص کی گئی رقم سے بھی ڈھائی کروڑ روپے کم تھی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس کام کو برسوں ترجیحاتی فہرست میں سب سے نیچے رکھا گیا اسکے نتیجے میں سیلاب نے بے بس آنکھوں کے سامنے پنجاب کے سات اضلاع کو تاراج کرکے رکھ دیا۔ صرف لئیہ میں ایک لاکھ نوے ہزار ایکڑ پر لگی کاشت برباد ہوگئی اور مکانات و فصلوں کی تباہی کا ابتدائی تخمینہ سات ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حکومتِ پنجاب کو سات اضلاع (میانوالی، بھکر، لئیہ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان) میں زندگی و زراعت کی بحالی کے لیے کم از کم پچاس ارب روپے درکار ہیں۔شائد ایسے موقع پر ہی تو کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات ہاتھ سے لگائی گانٹھ کو دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔

جب یہ اعداد و شمار ہم سب سکتے کے عالم میں سن رہے تھے تو ایک صاحب نے ماحول بدلنے کے لیے لقمہ دیا کہ اگر حکومتیں اسی طرح ترجیحات مرتب کرتی ہیں تو پھر گیلانی یا شریف کی کیا ضرورت ہے۔ یہی کام لئیے کا ننگا ملنگ بھی تو اسی خوش اسلوبی اور ذہانت سے کرسکتا ہے۔

یہ مجلس جو ہنسی مذاق اور فقرے بازی سے شروع ہوئی سنجیدگی کے راستے سے ہوتی ہوئی اجتماعی خاموشی پر منتج ہوئی۔کل صبح ہر صورت میں لئیہ چھوڑنا ہے۔ ورنہ آگے کا شیڈول گڑبڑ ہوسکتا ہے ۔۔۔