آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 14 اگست 2010 ,‭ 07:22 GMT 12:22 PST

سیلاب سے دو کروڑ متاثر، جیکب آباد: ’بارہ گھنٹے اہم‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

سیلاب کا ریلا سندھ کے شہر جیکب آباد کی طرف بڑھ رہا ہے اور پچانوے فیصد آبادی نے شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لے لی ہے۔ جیکب آباد کے ضلعی رابطہ افسر کاظم جتوئی کا کہنا ہے کہ اگلے بارہ سے چوبیس گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ جیکب آباد کی پانچ لاکھ آبادی میں سے پچانوے فیصد آبادی نے شہر چھوڑ دیا ہے۔

اس سے قبل وزیرِِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینچر کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیلاب سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں، تیرہ سو چوراسی ہلاک اور سات لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔

کلِک سندھ متاثرین کا کوئٹہ کی جانب رخ

کلِک نوشہرہ کا پناہ گزین کیمپ: تصاویر

کلِک سیلاب ڈائری: قسط دوئم

دوسری جانب عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے متاثرین کی امداد ہونی چاہیے تھی اس رفتار سے مدد نہیں ہو پا رہی ہے۔

جیکب آباد کو خطرہ

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ انڈس ہائی وے پہلے ہی زیر آب تھی اور اب جیکب آباد کا واحد زمینی راستہ یعنی شکارپور-جیکب آباد ہائی وے بھی پانی میں ڈوب گئی ہے۔

واضح رہے کہ جیکب آباد میں شہباز ایئر بیس بھی ہے جس کو سیلاب سے خطرہ ہے۔ اور اطلاع کے مطابق مبینہ طور پر امریکیوں کے زیر استعمل اس اڈے کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیکب آباد شہر کے مضافاتی علاقے زیر آب آ چکے ہیں اور پانی کا ریلا جیکب آباد سے محض دو کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کو بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کوئٹہ بائی پاس پر کٹ لگا کر پانی کے بہاؤ کو بلوچستان کی جانب موڑ دیا جائے۔

کوئٹہ بائی پاس سے اگر پانی کے بہاؤ کو موڑا جائے تو پانی بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں داخل ہو جائے گا۔

اس سے قبل مقامی انتظامیہ اور وفاقی وزیر برائے کھیل اعجاز جاکھرانی کوئٹہ بائی پاس پر کٹ لگانے کے لیے موقع پر پہنچے تھے لیکن دوسری جانب سے ظفر اللہ جمالی محافظوں سمیت موقع پر پہنچ گئے اور کٹ لگانے سے منع کیا۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گڈو کے مقام پر سیلابی ریلے کی مقدار نو لاکھ پچانوے ہزار کیوسک سے دس لاکھ بیس ہزار کیوسک ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سیلابی ریلے سے خیرپور، جیکب آباد، گھوٹکی اور سکھر کے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔

متاثرین اور امداد

پاکستان کے وزیرِِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینچر کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں، تیرہ سو چوراسی ہلاک اور سات لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی دوبارہ آباد کاری میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت وسیع پیمانے پر آنے والی تباہی کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی اور اِس کے لیے عوام کو حکومت کا بھر پور ساتھ دینا ہو گا۔

دوسری جانب عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے پاکستان کی تاریخ میں بدترین سیلاب کے متاثرین کی امداد ہونی چاہیے اس رفتار سے مدد نہیں ہو پا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد ابھی بھی ساٹھ لاکھ افراد تک نہیں پہنچ پائی ہے کیونکہ ان متاثرین تک رسائی نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ متاثر ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد ابھی بھی ساٹھ لاکھ افراد تک نہیں پہنچ پائی ہے کیونکہ ان متاثرین تک رسائی نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب عالمی ریڈ کراس کے جنوبی ایشیا کے انچارج ییک ڈی ماو کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کو گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیمیاریوں سے ممکنہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم اوچا کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہیضے کے ایک مریض کی تصدیق ہو گئی ہے۔

پاکستان میں سیلاب کے باعث کئی علاقوں سے زمینی رابطے مسلسل منقطع ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ایک اور سیلابی ریلے کے بارے میں بتایا ہے۔ جیکب آباد شہر سمیت کئی اور علاقوں سے انخلا کرایا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ اسی برس کے دوران آنے والے بدترین سیلاب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب اور بارشوں سے اکثر اضلاع کے زمینی رابطے بدستور منقطع ہونے کی وجہ سے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں اپر سوات، اپر دیر، دیر بالاں اور چترال کا زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے بیس لاکھ کے قریب سیلاب متاثرین کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

معیشت پر اثر

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ورلڈ بینک کے سربراہ رابرٹ زولک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک نو سو ملین ڈالر کی امداد پاکستان کو دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

کلِک چھیالیس کروڈ ڈالر امداد کی اپیل

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے معاشی بدحالی کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔

پنجاب

مظفر گڑھ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر کو گذشتہ چند روز سے سیلاب کا جو خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے۔

ڈی سی او آفس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مظفر گڑھ شہر کو اب سیلاب کا خطرہ نہیں ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

انہوں نے بتایا کہ آئل ریفائنری پارکو اور بجلی پیدا کرنے والی پاور کمپنی کیپکو نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا ہے اور زندگی آہستہ آہستہ معمول کی جانب آنا شروع ہو گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ افراد کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو مختلف ٹیلوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مظفر گڑھ شہر کو سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر خالی کرا لیا گیا تھا اور اس کے بعد پانچ لاکھ کے قریب لوگ شہر سے نقل مکانی کر گئے تھے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق مظفر گڑھ کا ساٹھ فی صد علاقہ زیرِ آب آ گیا ہے جبکہ اسی فی صد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ضلع مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کے وسیع علاقوں کو زیر آب لے آیا ہے۔ دریائے سندھ میں دوسرے ریلے کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان کی متعدد بستیاں خالی کرا لی گئی ہیں۔ جن بستیوں میں پانی اترنے لگا تھا وہاں ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔

مظفر گڑھ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر کو گذشتہ چند روز سے سیلاب کا جو خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے سیلاب سے متاثر ہونے والے جنوبی پنجاب کے پانچ میں سے تین اضلاع میں سنیچر سے متاثرہ خاندانوں کو مفت راشن تقسیم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

راشن کی تقسیم کا یہ کام ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے شروع کیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں چودہ سو خاندانوں کو یہ راشن پہچایا جائے گا۔

کلِک تباہی کا شکار لوگ کیا کہتے ہیں

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ترجمان امجد کمال نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مظفر گڑھ، لیہ اور رحیم یار خان میں یہ راشن تقسیم کیا جائےگا جبکہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں زمینی راستے بند ہونے کی وجہ سے ابھی ان علاقوں میں خوارک کی تقسیم کا عمل شروع نہیں ہو سکتا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اُن کا ادارہ پہلے مرحلے میں چودہ سو خاندانوں میں راشن تقسیم کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ راشن ڈیلی بیس پر نہیں بلکہ ماہانہ بیس پر تقسیم کیا جائے گا۔ اُن کے مطابق راشن میں آٹا، آئل، بسکٹ اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق تنظیم کا ہدف مظفر گڑھ میں تیس ہزار، رحیم یار خان میں چودہ ہزار اور لیہ میں سترہ ہزار افراد میں راشن تقسیم کرنا ہے۔

بلوچستان کی صورتِ حال

بلوچستان سے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق حکومت بلوچستان کے مطابق صوبے میں سیلاب سے متاثرہ بارہ اضلاع میں دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور انھیں خوراک، ادویات اور خیمے فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ سیلاب سے مالی طور پر کتنا نقصان ہوا ہے۔

دریں اثنا جمعہ کو پاکستان فلڈ کمیشن کے چیف انجینئر عالمگیر خان کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب سے میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور لیہ کے اضلاع کے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگلے تین چار دنوں میں جب یہ ریلہ گڈو اور سکھر بیراج پہنچے گا تو اس کی وجہ سے گڈو بیراج پر پانی کی سطح ایک مرتبہ پھر دس لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے جہاں اس وقت نو لاکھ ستانوے ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔

خیبر پختونخواہ کی صورتحال

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بدھ کو ہیلی کاپٹروں اور جانوروں کے ذریعے غذائی اشیا پہنچانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ اب خراب موسم اور بارشوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔

قومی آفات کے صوبائی ادارے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پچاس سے زائد پل بری طرح متاثر ہوئے ہیں یا سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی، غدائی اشیا اور ادویات کی قلت ہے۔ صوبے میں تقریباً دس لاکھ لوگ بے گھر اور ایک لاکھ باؤن ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔