کون مرا، کیسا درد؟

کشمیر
Image caption سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں پچاس سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں کشمیریوں کے درد کا احساس ہے۔

جون کے ابتدائی دنوں سے دو مہینے کے دوران کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں میں پچاس سے زیادہ نوجوان اور بچے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ پتھراؤ کے جواب میں مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے براہ راست فائرنگ سے ایک ہزار سے زیادہ بچے بو ڑھے، خواتین اور نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی فورسزکی گولیاں بہت سے مظاہرین کی آنکھوں اور چہرے پر لگی ہیں۔ یہ غالباً طاقت کے استعمال کی نئی حکمت عملی ہے۔ زخمیوں میں بہت سے ایسے ہیں جن کی عمر محض دس برس ہے ۔

سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں پچاس سے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کے بعد بھارت کے وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں کشمیریوں کے درد کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں وہ نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ اس نئے آغاز کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو یہ دیکھے گی کہ ریاست میں نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں۔ کشمیر میں لو گ مرتے رہے ہیں۔ اس طرح کے بیانات ماضی میں بھی آتے رہے ہیں اور کمیٹیاں تو نہ جانے کتنی بن چکی ہیں۔

جون میں کشمیریوں نے جب احتجاج شروع کیا تھا تو وہ حکومت سے ملازمت کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ وہ پولیس اور فوج کے ہاتھوں بعض کشمیریوں کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جنہیں پولیس اور فوجیوں نے انعام حاصل کرنے کے لیے دہشت گرد بتا کر قتل کر دیا تھا۔ کشمیری مظاہرین صرف انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بے قصور افراد کے قتل کے کئی واقعات سامنے آئے تھے۔ اب وہ سب پسِ پشت جا چکے ہیں۔

ریاستی حکومت نے ہر مظاہرے اور اور اجتجاج کا جواب مزید شدت سے دیا ہے۔ موجودہ نظام میں مظاہروں اور احتجاج کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ ہر اٹھنے والی احتجاجی آواز کا جواب صرف طاقت ہے۔

شورش زدہ وادی میں دو عشروں میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ ہزاروں بچے یتیمی میں پل رہے ہیں۔ درد پر کشمیریوں کے اب آنسو نہیں نکلتے۔ کشمیریوں کی نئی نسل اسی لامتناہی کرب میں پروان چڑھی ہے۔

بیش تر کشمیری بظاہر چونکہ ہندوستان سے آزادی کے متمنی ہیں اس لیے وہ مملکت ہند کے مجرم ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جب کسی بے قصور کی ہلاکت ہوتی ہے تو اسی لیے اس کا درد ہندوستاں میں محسوس نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کو بھی درد اس وقت محسوس ہوا جب سکیورٹی فورسز پچاس مظاہرین کو ہلاک کر چکی تھیں۔

دلی میں دانشور یہ تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں کہ کشمیر میں مختلف شہروں میں ہزاروں خود ساختہ مظاہرے کس طرح پاکستان کے اشارے پر ہو رہے ہیں۔ پتھراؤ آئی ایس آئی کی نئی حکمت عملی ہے اور جو نوجوان، بچے اور بچیاں سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا شکار ہوئے وہ دراصل پاکستان سے پیسے لے کر مرنے کے لیے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کر رہے تھے۔

Image caption سکیورٹی فورسز نے سینکڑوں بار مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں لیکن مظاہرین کی طرف سے صرف پتھر ہی پھینکے گئے ہیں۔

کشمیر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کی روزانہ ہلاکتیں جاری ہیں۔ ریاست میں شدت پسندی کی تحریک تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ گزرے ہوئے ان دو مہینوں میں پچاسوں مظاہرے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے سینکڑوں بار مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں لیکن مظاہرین کی طرف سے صرف پتھر ہی پھینکے گئے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے کشمیری انتفادہ قرار دے رہے ہیں ۔ کشمیریوں کی طرف سے پھینکے گئے ہر پتھر کا جواب مملکت ہند نے انتہائی شدت سے دیا ہے لیکن اس شدید نفرت کو وہ محسوس نہیں کر سکی ہے جو ان پتھروں میں کی طرح پتھر بن چکی ہے۔

اسی بارے میں