دریا سے پہلے اپنی حماقتوں پر پشتہ باندھنے کی ضرورت ہے

اگر میں روزانہ آپ کےمنہ پر زور کا چانٹا جڑتا رہوں۔ آپ کے جسم کے کسی بھی حصے پر چٹکی بھر کر نیل چھوڑ دوں۔آتے جاتے تشریف پر ٹھڈا رسید کرتا رہوں۔کبھی کبھی گلے میں رسی ڈال کر منہ کالا کرکے گدھے پر الٹا بٹھا کر گلیوں میں گھماتا رہوں اور تماشائیوں سے کہوں کہ آپ کے منہ پر تھوکتے رہیں۔

آپ کو نیند آنے لگے تو سر پر پانی کی بالٹی ڈال دوں۔جی چاہے تو سر کے بل کھڑا کردوں، دل چاہے تو پنکھے سے لٹکا کر چھتر مار مار کر تلوے سوجھا دوں۔ آپ کچھ کہنے کے لیے ذرا سا بھی منہ کھولیں تو آپ کی ماں بہن ایک کردوں۔

یہ سب کچھ چالیس برس تک چوبیس گھنٹے بلا فردِ جرم آپ کے ساتھ ہوتا رہے تو کیا کریں گے؟ کیا آپ مجھے معاف کردیں گے، عدالتی چارہ جوئی کریں گے یا پھر موقع پاتے ہی مجھے، تماشا دیکھنے والے میرے اہلِ خانہ اور شریکِ جرم حالی موالیوں کو قتل کرکے لاشیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کریں گے؟

آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان حالات میں آپ کا فطری ردِ عمل کیا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا انسانیت و تہذیبی اقدار کی عظمت پر مبنی دانشوری بگھارے بغیر سیدھا سیدھا جواب چاہیے۔

کئی عشروں سے دریائے سندھ اور اس کے نائبین کے ساتھ ہم کیا کررہے ہیں۔وہ اپنے جامےمیں بہتے رہے تو ہم اسے شریفانہ کمزوری سمجھ کر ان کی گذرگاہوں کو ہر طرح کی الائشوں سے آلودہ کرتے رہے، کنارے پر لگے گھنے جنگلات اور نباتات کاٹ کاٹ کر ان کے سر کی سبز چادر تار تار کرتے رہے۔ لالچ کے بلڈوزروں سے پیچھے دھکیل دھکیل کرانہی کی ریت کھود کھود کر بستیاں، اینٹوں کے بھٹے، سڑکیں اور زرعی زمینیں بساتے رہے۔

اتنے ظلم پر بھی دریا آپے سے باہر نہیں ہوئے۔کبھی کبھی صرف طغیانی کی صورت میں سرزنش کرتے رہے، غصے سے بل کھا کر راستے بدلتے رہے۔اپنے ہی سینے پر بہتے پانی سے محروم رہے مگر اف نہ کی۔پیاس بجھانے کے لئے اپنے ہی خون کےگھونٹ پیتے رہے۔ لیکن ہم انکے پیچ و تاب کو غلام کا غصہ سمجھتے رہے اور سر پر موتنے سے باز نا آئے۔

ہم نے سوچا کہ دریا تو ناخواندہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ ازخود نوٹس لینے والی کسی عدالت کا راستہ نہیں جانتے۔انہیں تو رشوت دینا بھی نہیں آتا۔ وہ تو جانوروں کی طرح بے زبان ہیں۔زیادہ سے زیادہ چیخ سکتے ہیں۔ لہٰذا ان سے جانوروں جیسا سلوک عین تہذیبی ہے۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

بات بات پر غصہ گنوار کو آتا ہے شریف آدمی کو بہت کم غصہ آتا ہے۔

یہ سیلاب نہیں بلکہ شرافت غیض وغضب میں ہے۔جسے آپ بارہ لاکھ کیوسک پانی سمجھ رہے ہیں یہ دراصل ہماری بارہ لاکھ کیوسک مائع جہالت ہے۔

جسے ہم ریلہ سمجھ رہے ہیں یہ ان آزاد منش غلام دریاؤں کے منہ سے نکلنے والا غصیلہ تھوک ہے۔

جن بندوں اور پشتوں کے ٹوٹنے پر ہم اتنے غمزدہ ہیں یہ پشتے نہیں ہماری آنکھوں پر بندھی پٹیاں ہیں جنہیں سندھو اور اس کے باغی معاونین اب کھینچ کھینچ کر اتار رہے ہیں۔

جسے ہم اپنی فصلوں اور املاک کا نقصان سمجھ رہے ہیں یہ دراصل وہ تجاوزات ہیں جنہیں دریا خود صاف کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔

خبردار! کوئی دریا کی طرف انگلی نہ اٹھائے کیونکہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں ہماری جانب بھی اشارہ کررہی ہیں ہم چند دریاؤں کو عارضی بےوقوف ضرور بنا سکتے ہیں لیکن سب دریاؤں کو مستقل بے وقوف نہیں بنا سکتے؟ دریا سے پہلے اپنی حماقتوں پر پشتہ باندھنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں